Man was born free, but I see him in chains.
الرسالہ، اگست ۲۰۱۴، صفحہ ۱۲
دستاویز بن کر رہ جائیں گی ۔
مثال کے طور پر جرمن سائنس داں میکس پلانک (Max Planck) نے طبیعیات میں ایک نظریہ دریافت کیا ۔ اس نظریے کو کوانٹم تھیوری (Quantum Theory) کہا جاتا ہے ۔ کوانٹم تھیوری کا مطلب یہ ہے کہ انرجی کا عمل مسلسل انداز میں نہیں ہوتا، بلکہ وہ غیر مسلسل انداز میں ہوتا ہے: Quantum Theory: The theory that energy is not absorbed nor radiated continuously but discountinuously in definite units called quanta. اب اگر کوئی شخص یہ کرے کہ وہ کوانٹم تھیوری کی ترکیب کو اس کے اصطلاحی معنی میں نہ لے، بلکہ وہ ”کوانٹم“ کے لفظ کو اس کے ابتدائی لغوی معنی (مقدار) میں لے کر اس پر بحث کرے تو اس کی ساری بحث آخری حد تک غیر علمی ہوگی۔ اور اگر اس کے اصول کو مان لیا جائے تو کوانٹم تھیوری کے موضوع پر لکھی ہوئی تمام کتابیں ایک نا قابل فہم دستاویز بن کر رہ جائیں گی۔ زبان کے معاملے میں یہی اصول ہر شعبہ علم میں رائج ہے۔ اسلام میں بھی اس کو اسی اعتبار سے استعمال کیا گیا ہے۔ قرآن میں بہت سے الفاظ ہیں جو بطور اصطلاح استعمال ہوئے ہیں، یعنی ایک مفہوم بتانے کے لیے کسی قریبی لفظ کو اختیار کرنا۔ مثلاً صلوة، صوم، زکوة، حج، وغیرہ۔ ان الفاظ کا ایک ابتدائی لغوی مفہوم ہے، لیکن قرآن میں اس کو اصطلاحی معنی کے اعتبار سے استعمال کیا گیا ہے۔ یہ اصطلاحی مفہوم تاریخ میں مسلسل طور پر جاری رہا۔ اگر کوئی شخص ایسا کرے کہ ان الفاظ کو وہ اس کے معروف اصطلاحی معنی کے برعکس صرف اس کے لغوی معنی میں لے اور پھر اس کا خود ساختہ مفہوم بتا کر اس پر بحث شروع کر دے تو اس کی ساری بحث بلا شبہ بے بنیاد (baseless) قرار پائے گی۔ اس قسم کی بحث کی کوئی قیمت نہ علمی اعتبار سے ہوگی اور نہ اسلامی اعتبار سے۔ زبان اور معنی کا تاریخی تواتر ہر زبان کا یہ اصول ہے کہ اس کے الفاظ کے معنی اہل زبان کے استعمال سے متعین ہوتے ہیں۔ مجلسوں میں، تعلیم گاہوں میں، غرض ہر جگہ لمبی مدت تک اُن کا استعمال جاری رہتا ہے اور اُس پرڈکشنریاں
‹ Previous page Next page › Contents of August 2014 All issues