Al-Risala · August 2014 · page 13

Man was born free, but I see him in chains.

الرسالہ، اگست ۲۰۱۴، صفحہ ۱۳

بھی لکھی جاتی ہیں۔ اس طرح لمبی مدت کے عمل کے بعد اہلِ زبان اور اہلِ علم کے درمیان الفاظ کے مفاہیم مسلمہ طور پر متعین ہوجاتے ہیں، یہاں تک کہ زبان جاننے والوں کے درمیان الفاظ کے مفاہیم پر کوئی شبہہ باقی نہیں رہتا۔ یہی ہر زبان میں ہوتا ہے اور یہی معاملہ اسلام میں بھی پیش آیا ہے۔ قرآن ساتویں صدی کے ربع اول میں عربی زبان میں اترا۔ عربی زبان اُس وقت ایک تحریری زبان بن چکی تھی ۔ اُس وقت سے اب تک عربی زبان ایک زندہ زبان کے طور پر زمین کے ایک بڑے رقبے میں رائج ہے۔

قرآن نے جن الفاظ کو لغوی یا اصطلاحی معنی میں استعمال کیا تھا، وہ رسول کے معاصرین کے درمیان بڑے پیمانے پر اُسی مفہوم میں دہرائے جاتے رہے۔ اس کے بعد ایک بڑی انسانی آبادی میں نسل درنسل برابر یہ سلسلہ جاری رہا۔ مسلم معاشرے کے علاوہ، مسجدوں میں اور مدرسوں میں اور اداروں میں بڑے پیمانے پر ان اصطلاحات کا مسلسل چرچا ہوتا رہا۔ ان پر کثرت سے کتابیں اور ڈکشنریاں لکھی گئیں۔ اس عمل (process) کو علمی زبان میں تواتر کہا جاتا ہے۔ اس تواتر (continuation) نے قرآن کے الفاظ اور اس کی اصطلاحات کو غیر مشتبہ طور پر ایک بڑے انسانی گروہ کے درمیان معلوم اور مسلم بنا دیا۔

اس معاملے کو تاریخی تواتر (historical continuation) کہا جا سکتا ہے۔ یہی تاریخی تواتر ہر زبان کے کتب خانے کو علوم کا مستند ماخذ بنائے ہوئے ہے۔ یہی تاریخی تواتر قرآن کے مفاہیم کو سمجھنے کے لیے بھی پوری طرح موجود ہے۔ جو اصول دوسرے علمی شعبوں کی کتابوں کو ناقابل انکار حقیقت کا درجہ دئے ہوئے ہے، وہی اصول قرآن اور اس کے الفاظ واصطلاحات کو بھی ایک ناقابلِ انکار حقیقت کا درجہ عطا کرتا ہے۔

اس معاملے میں جو لوگ قرآن کے الفاظ واصطلاحات پر شک کریں، وہ صرف قرآن کے الفاظ واصطلاحات پر شک نہیں کر رہے ہیں، بلکہ وہ علوم کی پوری تاریخ کو عملاً منسوخ قرار دے رہے ہیں، اور اس قسم کی منسوخی کے بارے میں بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ بلا شبہہ وہ بدابتہ ہی

‹ Previous page Next page › Contents of August 2014 All issues

Printed page