Al-Risala · August 2014 · page 14

(Prima facie it stands rejected) قابل رد ہے-

الرسالہ، اگست ۲۰۱۴، صفحہ ۱۴

(Prima facie it stands rejected) قابل رد ہے-

اسی طرح انگریزی زبان کا ایک لفظ ایوالو(evolve) ہے جو لاطینی زبان سے آیا ہے۔ اس لفظ کا ابتدائی مطلب کھولنا(unfolding) ہے۔ یہ لفظ ابتداءً اسی مفہوم میں استعمال ہوتا تھا۔ اس کے بعد انیسویں صدی میں برٹش سائنس داں چارلس ڈارون (وفات: 1882) نے اپنا ایک حیاتیاتی نظریہ بنایا جس کو اب عام طور پر نظریہ ارتقا (theory of evolution) کہا جاتا ہے۔ ڈارون کے بعد ایولوشن (evolution) کا لفظ ایک مخصوص حیاتی نظریے کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ اب اس لفظ کا اصطلاحی مطلب یہ ہو گیا کہ تمام انواع حیات ایک ہی نوع میں عضویاتی ارتقا کے ذریعے لمبی مدت کے دوران وجود میں آئی ہیں:

Evolution: The theory, now generally accepted, that all species of plants and animals developed from earlier forms by hereditary transmission of slight variations in successive generations. ایولوشن (evolution) کے لفظ کا یہ اصطلاحی مفہوم اب اہل علم کے درمیان ایک معروف اور مسلم مفہوم بن چکا ہے۔ اس کا سبب لمبی مدت تک لفظ کے اس اصطلاحی مفہوم کا استعمال ہے۔ لمبی مدت کے دوران جس طرح لفظ ’’ایولوشن‘‘ تاریخ میں نسل در نسل سفر کر رہا تھا، اُسی طرح لفظ کا یہ مفہوم بھی لفظ کے ساتھ ساتھ سفر کرتا رہا۔

اس دوران لفظ میں اور اس کے مفہوم میں کبھی جدائی نہیں ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ چارلس ڈارون کے زمانے میں اس لفظ کا جو مفہوم لوگوں نے سمجھا تھا، اس لفظ کو پڑھ کر یا سن کر عین وہی مفہوم آج کے لوگ بھی سمجھتے ہیں جو ڈارون کے ہم عصر لوگوں نے سمجھا تھا۔ ’’ایولوشن‘‘ کا یہ اصطلاحی مفہوم اب اتنا زیادہ مسلم (establish) ہو چکا ہے کہ اگر کوئی شخص ڈارون یا اس کے بعد کے حیاتیاتی مفکرین کی کسی کتاب میں ’’ایولوشن‘‘ کا لفظ پڑھے اور اس کو قدیم لغوی معنی میں لے کر یہ کہے کہ اس کا مطلب صرف کھولنا(unfolding) ہے، تو یہ بات اتنی زیادہ مضحکہ خیز (ridiculous) ہوگی کہ کوئی صاحبِ علم

‹ Previous page Next page › Contents of August 2014 All issues

Printed page