زبان اور تسلسل
الرسالہ، اگست ۲۰۱۴، صفحہ ۱۵
اس کا جواب دینے کو صرف اپنے وقت کا ضیاع سمجھے گا۔
زبان اور تسلسل
تسلسل ہر زبان کا لازمی حصہ ہے۔ تسلسل کے بغیر زبان کی مثال ایسی ہو جائے گی جیسے کھدائی (excavation) کے ذریعے دریافت کی ہوئی پتھر کی ایک تختی (slab) جس پر کسی معدوم زبان کی ایک عبارت لکھی ہوئی ہو، لیکن آج کوئی شخص اس کو سمجھ نہ سکے۔ کیوں کہ پتھر کی اس تختی اور آج کے انسان کے درمیان طویل تاریخی بُعد (historical gap) واقع ہے۔ ایک طویل زمانے تک لوگوں کے درمیان اس حجری زبان (stone language) کو لکھنے اور بولنے کا عمل جاری نہ رہا۔ اس طرح اس زمانی بعد کی بنا پر یہ حجری زبان لوگوں کے لیے نا قابل فہم بن گئی۔ مثال کے طور پر دستور ہند (Constitution of India) کو ڈاکٹر امبیڈکر اور ان کے ساتھیوں نے لکھا، پھر اس دستور کا متن (text) کتاب کی صورت میں چھاپا گیا، پھر انڈیا کی دستور ساز اسمبلی میں اُس پر بحث و مباحثہ ہوا۔ اس کے بعد سے لے کر اب تک انڈیا کے سپریم کورٹ کے ججوں اور وکیلوں اور قانون کے طلبا کے درمیان وہ بار بار زیر بحث آیا، پھر دستور کے موضوع پر کثیر تعداد میں کتابیں اور مقالات لکھے جاتے رہے۔ اس طرح انڈیا کی آزادی (1947) سے اب تک دستور ہند کے مندرجات مسلسل طور پر لوگوں کے درمیان چرچا کا موضوع بنے ہوئے ہیں۔ یہی وہ تسلسل ہے جو دستور ہند کو ایک قابل فہم قانونی دستاویز بنائے ہوئے ہے۔ اگر تسلسل کی اس تاریخ کو حذف کر دیا جائے تو دستور ہند ایک نا قابل فہم دستاویز بن کر رہ جائے گا، حتیٰ کہ اس کی قانونی اہمیت ہی ختم ہو جائے گی۔
ہر زبان الفاظ کا مجموعہ ہوتی ہے۔ الفاظ کے دو پہلو ہیں۔ ایک ہے اس کی آواز یا تلفظ اور دوسرا پہلو ہے اس کی معنویت۔ ان دونوں پہلوؤں کے زندہ رہنے سے کوئی زبان زندہ رہتی ہے۔ مثلاً انگریزی زبان کا ایک لفظ اینف (enough) ہے۔ اس کے معنی کافی کے ہیں۔ اینف کا تلفظ بھی صوتی تسلسل (continuation of meaning) کے ذریعے ایک نسل سے دوسری نسل تک پہنچ رہا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2014 All issues