Al-Risala · August 2014 · page 16

زبان کی تاریخ

الرسالہ، اگست ۲۰۱۴، صفحہ ۱۶

اسی طرح اینف کا مفہوم بھی معنوی تسلسل (continuation of meaning) کے ذریعے ایک نسل سے دوسری نسل تک پہنچ رہا ہے۔ یہی نسل در نسل تسلسل (continuation) وہ چیز ہے جو زبان کے تلفظ اور اس کے معنی دونوں کو تاریخ میں اپنی اصل ابتدائی صورت میں محفوظ کیے ہوئے ہے۔ تسلسل یا تواتر (continuation) کا یہ تاریخی اصول جس طرح دوسری زبانوں کی کتابوں پر صادق آتا ہے، ٹھیک اُسی طرح وہ قرآن کی زبان کے بارے میں بھی درست ہے۔ قرآن کی زبان بھی معنی اور تلفظ دونوں اعتبار سے تاریخ میں نسل در نسل سفر کر رہی ہے۔ یہ تاریخی تسلسل (historical continuation) تقریباً ڈیڑھ ہزار سال سے لوگوں کے درمیان کسی انقطاع (discontinuity) کے بغیر جاری ہے۔ اس تاریخی تسلسل نے قرآن کو کامل معنوں میں ایک محفوظ اور قابل فہم کتاب بنا دیا ہے۔ یہ ایک ثابت شدہ تاریخی واقعہ ہے۔ جو لوگ اس واقعے کو نہ مانیں، وہ خود اپنے کیس کو مشتبہ بنا رہے ہیں، نہ کہ قرآن میں استعمال ہونے والے الفاظ واصطلاحات کو۔

زبان کی تاریخ

انسان کی تعریف (definition) یہ کی جاتی ہے کہ اس کے اندر تصوراتی فکر (conceptual thinking) کی صلاحیت ہے۔ چناں چہ انسان کے ذہن میں پہلے کسی چیز کا تصور آتا ہے، اس کے بعد اس کے لیے الفاظ وضع ہوتے ہیں۔ مثلاً پہاڑ کو دیکھ کر پہاڑ جیسی چیز کا تصور پہلے آیا، اس کے بعد اس فطری ظاہر ہے کو بتانے کے لیے پہاڑ (mountain) کا لفظ وضع ہوا۔ ایسا نہیں ہے کہ پہاڑ کا لفظ پہلے وضع ہوا ہو اور اس کے بعد انسان نے پہاڑ کو دریافت کر کے اُس کو ’’پہاڑ‘‘ کا نام دیا ہو۔

یہی معاملہ اُن تعبیری الفاظ کا ہے جو قرآن میں استعمال کیے گئے ہیں۔ مثلاً انسان کے ذہن میں مسجد کا تصور (concept) پہلے آیا، اس کے بعد عبادت کے لیے بننے والی عمارت کو مسجد کہا جانے لگا۔ اسی طرح انسانی ذہن میں (صلوة) کا تصور پہلے آیا، اس کے بعد عبادت کی ایک مقرر صورت کو صلوة

‹ Previous page Next page › Contents of August 2014 All issues

Printed page