زبان کی تاریخ
الرسالہ، اگست ۲۰۱۴، صفحہ ۱۷
کہا جانے لگا۔ اس کے بعد یہ ہوا کہ بہت سے لوگ مقرر اوقات میں اجتماعی طور پر کھلے مقامات پر اعلان کے ساتھ اقامت صلوۃ کا فریضہ انجام دینے لگے۔ اس کے بعد فطری طور پر ایسا ہوا کہ نماز کی عبادت تمام لوگوں کے لیے اُسی طرح معلوم اور معروف واقعہ بن گئی جس طرح اس نوعیت کی دوسری تمام اجتماعی روایات ایک معروف واقعہ بنی ہوئی ہیں۔
زبان کسی خلا (vacuum) میں سفر نہیں کرتی، زبان ہمیشہ تاریخ میں سفر کرتی ہے۔ جس طرح انسان تاریخ میں سفر کرتا ہے، اُسی طرح انسان کی زبان بھی تاریخ میں سفر کرتی ہے۔ زبان کی تاریخ زبان کو ایک قابل فہم تسلسل بناتی ہے۔ اگر کوئی شخص یہ کرے کہ وہ زبان کو اس کی تاریخ سے الگ کر کے اس کا مطالعہ کرے تو یقینی طور پر وہ غلطی کرے گا۔ وہ نہ تاریخ کو درست طور پر سمجھ سکے گا اور نہ زبان کو۔
چند مثالیں
قرآن کی آیتوں کو سمجھنے کے لیے صحیح طریقہ صرف یہ ہے کہ قرآن کی آیتوں میں جو الفاظ لغوی معنی میں آئے ہیں، اُن کو لغوی معنی میں لیا جائے اور جو الفاظ استعمالی مفہوم میں آئے ہیں، اُن کو اُن کے استعمالی مفہوم میں لیا جائے، خواہ وہ مجاز کے مفہوم میں ہوں یا اصطلاحی مفہوم میں یا کسی اور مفہوم میں۔ الفاظ کا یہ مفہوم ان کے استعمالی تواتر سے معلوم ہوگا، نہ کہ صرف ڈکشنری کے آزادانہ استعمال سے۔ الفاظ کا یہ استعمالی مفہوم لوگوں کے درمیان نسل در نسل کے تاریخی تواتر سے متعین ہو گیا ہے۔ الفاظ کا یہ استعمالی مفہوم آج بھی اہلِ علم کے درمیان تمام اسلامی اداروں میں غیر مشتبہ طور پر رائج ہے۔ الفاظ کا یہ اصطلاحی مفہوم ہزاروں کتابوں میں مسلسل طور پر ریکارڈ ہوتا چلا آرہا ہے۔ ان کتابوں سے اصلاً وہ کتابیں مراد ہیں جو عربی زبان میں لکھی گئی ہیں۔ یہ علمی کتابیں پہلے مخطوطات اور مطبوعات کی صورت میں کتب خانوں میں تھیں، اب وہ انٹرنیٹ کی صورت میں ہر جگہ آن لائن موجود ہیں اور اب اس پر مزید اضافہ یہ ہوا ہے کہ یہ ڈیجیٹل فارمیٹ(digital format) میں ہر جگہ آن لائن اور آف لائن موجود ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2014 All issues