Al-Risala · August 2014 · page 18

زبان کی تاریخ

الرسالہ، اگست ۲۰۱۴، صفحہ ۱۸

مثال کے طور پر قرآن میں ’صلوۃ‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ صلوۃ کا لفظ قرآن کی ایک اصطلاح ہے۔ صلوۃ سے مراد وہ مخصوص عبادت ہے جو اسلام میں اہل ایمان کے لیے مقرر کی گئی ہے (4:103)۔ صلوۃ کا یہ مفہوم تاریخی تواتر سے غیر مشتبہ طور پر اب ایک معلوم واقعہ بن چکا ہے۔ اب اگر کوئی شخص یہ کہے کہ وہ صلوۃ کو اس کے اصطلاحی معنی میں بطور عبادت نہیں لے گا، بلکہ وہ صلوۃ کو اس کے لغوی معنی کے اعتبار سے لے گا، یعنی اس معنی میں کہ صلوۃ سے مراد مخصوص عبادت نہیں، بلکہ صلوۃ کا مطلب ہے : اتباع دین، تو قرآن کے لفظ کی ایسی تفسیر بلا شبہ نہ ناقابل قبول ہوگی۔ علمی اصولوں کے اعتبار سے، اُس کا کوئی وزن نہ ہوگا۔

اسی طرح مثال کے طور پر قرآن میں ’حج‘ کا لفظ معروف سالانہ عبادت کے لیے استعمال ہوا ہے۔ رسول اور اصحابِ رسول کے زمانے سے لے کر اب تک علمی اور تاریخی تواتر کے اعتبار سے حج کے اس مفہوم میں کوئی شک نہیں۔ اب اگر کوئی شخص یہ کرے کہ وہ حج کو اس کے معروف اصطلاحی معنی سے ہٹا کر اس کے لغوی معنی میں لے اور یہ دعوی کرے کہ حج کا مطلب حجت کرنا ہے، یعنی دلائل کے ساتھ امت کے مسائل پر باہم ڈسکشن کرنا۔ اس قسم کی تفسیر بلا شبہ قابلِ رد ہوگی، کیوں کہ وہ مسلمہ علمی اصولوں کے خلاف ہے۔

اسی طرح ’صوم‘ کی مثال لیجیے۔ صوم عربی زبان کا ایک لفظ ہے۔ ابتدائی معنی کے اعتبار سے، صوم کا مطلب رکنا (abstinence) ہے۔ اسلام میں جب رمضان کے مہینے میں روزہ رکھنا فرض کیا گیا تو روزے کے لیے ایک اصطلاحی لفظ وضع کیا گیا۔ یہ اصطلاحی لفظ صوم تھا۔ صوم کا لفظ اپنے لغوی معنی کے اعتبار سے اس مفہوم کے لیے ایک قریب تر لفظ تھا۔ ابتدائی معنی کے لحاظ سے صوم کا لفظ صرف رکھنا تھا، لیکن جب صوم کو بطور اصطلاح استعمال کیا گیا تو اس کے معنی یہ ہو گئے کہ رمضان کے مہینے میں دن کے اوقات (from dawn to dusk) میں کھانے پینے جیسی چیزوں سے رکے رہنا۔ اب اسلام میں صوم کا لفظ ایک متعین عبادتی اصطلاح کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

رسول اور اصحابِ رسول کے زمانے سے لے کر اب تک اہل اسلام کے درمیان نسل در نسل صوم کا

‹ Previous page Next page › Contents of August 2014 All issues

Printed page