Al-Risala · August 2014 · page 19

زبان کا تلفظ اور اس کا مفہوم

الرسالہ، اگست ۲۰۱۴، صفحہ ۱۹

لفظ اپنے اِسی اصطلاحی مفہوم میں رائج رہا۔ اِسلام کے متعلق ہزاروں کتابوں میں صوم کا لفظ اِسی اصطلاحی معنی میں استعمال کیا جاتا رہا، یہاں تک کہ صوم کا لفظ اپنے عبادتی اصطلاح کے مفہوم میں ایک معلوم اور مُسلّم لفظ بن گیا۔ اب اگر کوئی شخص یہ کرے کہ چودہ سوسالہ تاریخی تسلسل کو نظر انداز کر کے وہ صرف لُغت کے ذریعے صوم کے لفظ کا معنی متعین کرے تو یہ بلاشبہ ایک ناقابل تسلیم فعل ہوگا۔ علم کے تمام معروف طریقے اس کو قبول کرنے سے انکار کر دیں گے۔

زبان کا تلفظ اور اس کا مفہوم

زبان خواہ کوئی بھی ہو، اس کے کسی لفظ کا تلفظ (pronunciation) اور اس کا مفہوم (meaning) دونوں سماعی ہیں، نہ کہ قیاسی، یعنی اہل زبان کے درمیان لمبی مدت تک زبان کے الفاظ اپنے تلفظ اور اپنے مفہوم دونوں کے اعتبار سے استعمال ہوتے رہتے ہیں۔ اس طرح نسل در نسل استعمال کے تسلسل سے زبان کے الفاظ کا تلفظ اور ان کا مفہوم دونوں غیر مشتبہ طور پر متعین ہو جاتے ہیں۔ الفاظ کا یہ تلفظ اور ان کا یہ مفہوم کسی عقلی منطق پر قائم نہیں ہوتا، بلکہ وہ تمام تر اہل زبان کے درمیان استعمال کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے۔

مثال کے طور پر انگریزی زبان میں مچھلی کو فِش (fish) کہا جاتا ہے۔ اس لفظ کا یہ تلفظ اہلِ زبان کے درمیان صدیوں کے استعمال کے نتیجے میں پوری طرح معلوم اور متعین ہو گیا ہے۔ لیکن برٹش رائٹر برنارڈ شاہ (وفات: 1950) نے کہا کہ میں فش کا تلفظ گھوٹی (ghoti) کروں گا۔ اس کی منطق یہ تھی کہ انگریزی زبان میں کبھی ایف (F) کا حرف جی (G) کی آواز دیتا ہے۔ اسی طرح آئی (I) کا حرف کبھی او (O) کی آواز دیتا ہے۔ اسی طرح ایس ایچ (Sh) کبھی ٹی (T) کی آواز دیتا ہے۔ مگر اہل زبان نے برنارڈ شا(Bernard Shaw) کی اس بات کو کوئی اہمیت نہ دی۔ انھوں نے برنارڈ شا کی بات کو صرف ایک جوک (joke) کہہ کر نظر انداز کر دیا۔

اسی طرح مہاتما گاندھی (وفات: 1948) نے ہندو دھرم کی مقدس کتاب بھاگود گیتا (Bhagwad Gita) کی شرح لکھی۔ اس میں انھوں نے بتایا کہ بھاگود گیتا میں مہا بھارت کا جو قصہ

‹ Previous page Next page › Contents of August 2014 All issues

Printed page