زبان کا تلفظ اور اس کا مفہوم
الرسالہ، اگست ۲۰۱۴، صفحہ ۲۰
ہے، وہ خارجی معنوں میں کسی حقیقی جنگ کا قصہ نہیں ہے، بلکہ وہ داخلی معنوں میں ایک روحانی جنگ (spiritual war) کا قصہ ہے۔ لیکن جیسا کہ معلوم ہے، کسی ہندو اسکالر نے اس شرح کو تسلیم نہیں کیا، بلکہ اس کو مہاتما گاندھی کا صرف ایک ذاتی خیال کہہ کر نظر انداز کر دیا۔ یہی معاملہ قرآن کا ہے۔ قرآن کی زبان عربی ہے۔ قرآن ساتویں صدی عیسوی میں عرب میں اترا۔ رسول اور اصحاب رسول کی کوشش سے پورے عرب نے قرآن کے دین کو قبول کر لیا۔ اس کے بعد مسلسل دعوت و تبلیغ کی کوشش جاری رہی، یہاں تک کہ ایشیا اور افریقہ کے درمیان وہ وسیع خطہ وجود میں آیا جس کو عرب دنیا (Arab World) کہا جاتا ہے۔
عرب دنیا میں عمومی طور پر اور عرب دنیا کے باہر خصوصی طور پر، قرآن اپنی عربی زبان میں پڑھا جانے لگا۔ لوگوں نے قرآن کو حفظ کیا، قرآن کی ڈکشنریاں تیار کیں، قرآن کی تفسیریں لکھیں، قرآن سے متعلق علوم پر بے شمار کتابیں عربی زبان میں تیار کیں، یہاں تک قرآن پر مبنی عربی کتابوں کا ایک وسیع اسلامی کتب خانہ وجود میں آگیا۔ عربی زبان کا یہ استعمال اور اہل زبان کے درمیان اس کا چرچا ایک تاریخی عمل تھا جو کہ ہزار سال سے بھی زیادہ مدت تک جاری رہا۔
اب یہ تاریخ اکیسویں صدی میں پہنچ چکی ہے۔ زبان کے تمام معلوم قوانین کے مطابق، اب قرآن میں استعمال ہونے والے عربی الفاظ ہر اعتبار سے معلوم اور محقق (established) ہو چکے ہیں، الفاظ کے تلفظ کے اعتبار سے بھی اور اس کے معنی کے اعتبار سے بھی۔ اب اگر کوئی شخص قرآن میں استعمال ہونے والی زبان کو اس کے معروف معنی سے ہٹا کر کسی نئے معنی میں استعمال کرے تو اس کا یہ فعل بلا شبہ ایک مضحکہ خیز (ridiculous) فعل ہوگا۔ وہ ہر گز اس قابل نہیں ہوگا کہ اس پر کوئی سنجیدہ توجہ دی جائے۔
مثلاً قرآن میں ایمان اور اسلام کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ اہل زبان کے درمیان ایمان واسلام کا دینی مفہوم غیر مشتبہ طور پر معلوم اور متعین ہے۔ اب اگر کوئی شخص ایمان و اسلام کے مذہبی اطلاق (religious connotation) کا انکار کرے اور کہے کہ ایمان واسلام کا مطلب امن (peace)
‹ Previous page Next page › Contents of August 2014 All issues