Al-Risala · August 2014 · page 21

لفظ اور معنی کا تواتر

الرسالہ، اگست ۲۰۱۴، صفحہ ۲۱

ہے، اور وہ یہ دعویٰ کرے کہ ایمان و اسلام دراصل امن کے معنی میں ہے اور اس کا مقصود یہ ہے کہ دنیا میں پر امن سماج (peaceful society) قائم کی جائے تو اس کو ایک غیر سنجیدہ خیال کہہ کر رد کر دیا جائے گا۔ اسلام بلاشبہ امن (peace) چاہتا ہے، لیکن ایمان و اسلام کے الفاظ کی حیثیت خالص دینی اصطلاح کی ہے۔

ان اصطلاحوں کے مفہوم کو مذکورہ انداز میں بدلنا ایمان و اسلام کے سیکولرائزیشن کے ہم معنی ہوگا جو بداہتہ ہی قابلِ رد ہے۔ اسی طرح اگر کوئی شخص یہ کہے کہ رب کا مطلب ربوبیت کا نظام یا سوشلسٹ سسٹم (socialist system) ہے تو اس قسم کی بات کو ہرگز سنجیدہ طور پر نہیں لیا جاسکتا۔ کیوں کہ رب کا مفہوم زبان کے استعمال کی طویل تاریخ کے نتیجے میں حتمی طور پر معلوم اور متعین ہو چکا ہے۔

لفظ اور معنی کا تواتر

ہر لفظ کا ایک مفہوم ہوتا ہے۔ یہ مفہوم لفظ کے ساتھ اس کے لایفک جز (inseparable part) کے طور پر شامل رہتا ہے۔ جس طرح لفظ تاریخ میں سفر کرتا ہے، اُسی طرح اس کا مفہوم بھی ساتھ ساتھ سفر کرتا رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زبان ہر دور کے لوگوں کے لیے باہم قابل فہم وسیلہ (mutually understandable means) بنی رہتی ہے۔ اگر لفظ اور معنی کے درمیان خلا (gap) واقع ہو جائے تو انسانوں کے درمیان با معنی تبادلہ خیال (meaningful exchange) ختم ہو جائے گا اور انسانی بستیاں عملاً گونگے لوگوں کی بستیاں بن جائیں گی۔ اس معاملے کو عام طور پر اہلِ علم نے بیان کیا ہے۔ چناں چہ شاہ اسماعیل شہید دہلوی اپنی کتاب ”عبقات“ میں اس نقطہ نظر پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: لا يخفى على من له أدنى ممارسة بأساليب الكلام أن هذا القول ناش عن جهل متراكم، إذ وضع الألفاظ لمعانيها من المتواترات (عبقة: 5، بحوالہ ”میزان“، جاوید احمد غامدی، صفحہ:33) یعنی اسالیب کلام پر جس شخص کو کچھ بھی ممارست حاصل ہے، اُس سے یہ بات مخفی نہیں رہ سکتی کہ یہ نقطہ نظر (کہ لفظ اپنے معنی کے ساتھ متواتر نہیں ہوتا)

‹ Previous page Next page › Contents of August 2014 All issues

Printed page