Al-Risala · August 2014 · page 22

وأحياناً على بكر أخينا إذا لم نجد إلا أخانا

الرسالہ، اگست ۲۰۱۴، صفحہ ۲۲

سرتا سر جہالت ہے۔ اس لیے کہ لفظ کا اپنے معنی کے لیے وضع ہونا ایک ایسا عمل ہے جو تواتر پر مبنی ہے۔ اس معاملے کو سمجھنے کے لیے ایک مثال لیجئے۔ عربی زبان کا ایک لفظ ’أخ‘ ہے۔ یہ لفظ اپنے ابتدائی لغوی مفہوم کے لحاظ سے، سگے بھائی (blood brother) کے لئے استعمال ہوتا ہے، مگر اسی کے ساتھ اس کا ایک استعاراتی مفہوم (metaphorical meaning) بھی ہے، یعنی کسی کو غیر خونی رشتے کے باوجود اظہار تعلق کے لیے بھائی کہنا۔ ’أخ‘ کا یہ استعاراتی مفہوم بھی قدیم زمانے سے چلا آ رہا ہے اور اب تک مسلسل طور پر وہ اُسی طرح لوگوں کے درمیان بولا اور سمجھا جاتا ہے۔ عرب میں ظہورِ اسلام سے قبل کا جو زمانہ تھا، اس کو جاہلیت کا زمانہ کہا جاتا ہے، یعنی حقیقت سے بے خبری کا زمانہ۔ ابوتمام الطائی (وفات: 231ھ) نے قدیم دور کے عرب شعرا کے کلام کا ایک منتخب مجموعہ تیار کیا تھا جو بعد کو ”دیوان الحماسۃ“ کے نام سے شائع ہوا۔ اس مجموعے میں جاہلی دور کے ایک تغلبی شاعر عمیر بن شُسیم بن عمر والقطامی (وفات: 130ھ) کے کچھ اشعار نقل کیے گئے ہیں۔ ان میں سے ایک شعر یہ ہے:

وأحياناً على بكر أخينا إذا لم نجد إلا أخانا

(اور کبھی ہم اپنے بھائی بنوبکر سے لڑجاتے ہیں۔ جب ہم اپنے بھائی کے سوا کسی اور کو نہیں پاتے۔ ) عرب شاعر کے اس شعر میں ’أخ‘ کا لفظ اپنے ابتدائی مفہوم میں نہیں ہے، یعنی وہ سگے بھائیوں کے لیے استعمال نہیں ہوا ہے۔ اس شعر میں یہ لفظ اپنے استعاراتی مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔ شاعر نے جب یہ لفظ اپنے شعر میں اس کے استعاراتی مفہوم میں استعمال کیا، اْس وقت یہ لفظ اپنے اس مفہوم کے لحاظ سے ایک معروف لفظ بن چکا تھا، اس لیے کسی کو اس کے سمجھنے میں مشکل پیش نہیں آئی۔ پھر ہجرت نبوی (622ء) کے بعد قرآن میں انصار و مہاجرین کے بارے میں یہ آیت اتری: وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنْتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا (3:103)۔ قرآن کی اس آیت میں ”اخوان“ (بھائی) کا لفظ اپنے ابتدائی لغوی معنی میں نہیں ہے، بلکہ اپنے استعاراتی معنی میں ہے۔ چوں کہ یہ لفظ اپنے اس استعاراتی مفہوم میں نسل در نسل

‹ Previous page Next page › Contents of August 2014 All issues

Printed page