وأحياناً على بكر أخينا إذا لم نجد إلا أخانا
الرسالہ، اگست ۲۰۱۴، صفحہ ۲۳
استعمال کی بنا پر لوگوں کے لیے پوری طرح قابل فہم بنا ہوا تھا، اس لیے جب یہ آیت اتری تو لوگوں نے بلا اشتباہ اس لفظ کو اس کے استعاراتی معنی میں لیا، نہ کہ اس کے ابتدائی لغوی معنی میں۔ اسی طرح 1928 میں شیخ حسن البنا کی قیادت میں مصر میں عربوں کی ایک تنظیم بنی۔ اس کا نام "الإخوان المسلمون“ رکھا گیا۔ تنظیم کے اس نام میں "الإخوان“ کا لفظ اپنے ابتدائی لغوی معنی میں نہیں ہے، بلکہ وہ اپنے استعاراتی معنی میں ہے، یعنی سگے بھائیوں کے معنی میں نہیں، بلکہ اسلامی بھائیوں کے معنی میں۔ اب اگر کوئی شخص یہ کرے کہ وہ الاخوان المسلمون کے نام کو اس کے ابتدائی لغوی معنی میں لے اور یہ کہے کہ یہ سگے بھائیوں (blood brothers) کی ایک تنظیم ہے، تو اس کی یہ بات بلاشبہ ایک غیر علمی بات ہوگئی۔ کوئی بھی ذی علم آدمی اس کو اہمیت نہیں دے گا اور نہ وہ اس کی ضرورت سمجھے گا کہ اس کا جواب دیا جائے— یہی معاملہ تمام مستعمل عربی الفاظ کا ہے۔ قول بلیغ میں کلام قرآن میں اسلوب دعوت کو بتاتے ہوئے ہوئے یہ آیت آئی ہے: وَقُلْ لَّهُمْ فِي أَنْفُسِهِمْ قَوْلًا بَلِیْغًا (4:63) یعنی تم اُن سے ایسی بات کہو جو اُن کے دلوں میں اترنے والی ہو: And speak to them in such terms as will address their minds. اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کے پیغام کو اس طرح پہنچانا مطلوب ہے کہ وہ لوگوں کے ذہن کو ایڈریس کرے۔ قرآن کی دوسری آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ قول بلیغ کے اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے اللہ نے قرآن کو عربی مبین (26:195) کی زبان میں اتارا۔ عربی مبین کی زبان کیا ہے، یہ وہی چیز ہے جس کو وضوح (clarity) کہا جاتا ہے، یعنی ایسی زبان میں جس کے اندر کامل وضوح ہو اور اس بنا پر وہ لوگوں کے لیے پوری طرح قابل فہم ہو۔
کوئی زبان سننے یا پڑھنے والوں کے لیے قابل فہم کس طرح بنتی ہے۔ ایسا لمبی مدت کے بعد ہوتا ہے۔ کوئی زبان اچانک نہیں بنتی۔ زبان ہمیشہ دھیرے دھیرے وجود میں آتی ہے۔ بہت سے لوگ
‹ Previous page Next page › Contents of August 2014 All issues