Al-Risala · August 2014 · page 24

وأحياناً على بكر أخينا إذا لم نجد إلا أخانا

الرسالہ، اگست ۲۰۱۴، صفحہ ۲۴

لمبی مدت تک اس کو لکھتے اور بولتے رہتے ہیں۔ اس طرح زبان میں ایک معنوی تسلسل قائم ہو جاتا ہے۔ یہی معنوی تسلسل وہ چیز ہے جو لوگوں کے لیے کسی زبان کو قابلِ فہم بناتا ہے۔ مثلاً قدیم دور کی کچھ زبانیں اب عملاً معدوم (instinct) ہو گئی ہیں۔ لکھنے اور بولنے والوں کے درمیان ان زبانوں کا تسلسل باقی نہیں رہا۔ اس بنا پر ان زبانوں میں وضوح کی صفت موجود نہیں۔ کھدائی (excavation) کے دوران ان قدیم زبانوں کے کچھ کتبے (slabs) دریافت ہوئے ہیں، مگر ان کتبوں پر لکھی ہوئی قدیم زبانیں آج کے انسان کے لیے قابلِ فہم نہیں۔ قدیم زبانوں کے صرف کچھ ماہرین (experts) ہیں جو ان کتبوں کو پڑھ کر اس کا مطلب بتاتے ہیں۔

مثال کے طور پر قرآن میں پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کا ایک واقعہ ان الفاظ میں بیان ہوا ہے: وَإِذَا سَمِعُوا مَآ أُنزِلَ إِلَى الرَّسُولِ تَرَى أَعْيُنَهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوا مِنَ الْحَقِّ (5:83) یعنی جب وہ اُس کلام کو سنتے ہیں جو رسول پر اتارا گیا ہے تو تم دیکھو گے کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہیں، اس سبب سے کہ انھوں نے حق کو پہچان لیا۔

قرآن کو سن کر مذکورہ افراد پر یہ غیر معمولی تاثر اس لیے ہوا کہ وہ ایک ایسی زبان میں تھا جو اُن کے لیے پوری طرح معلوم زبان تھی۔ پیدا ہونے کے بعد سے مسلسل طور پر وہ اس زبان کو سنتے چلے آ رہے تھے۔ اس بنا پر اس زبان میں کہی ہوئی بات اُن کے لیے پوری طرح ایک واضح کلام کی حیثیت رکھتی تھی۔ اگر زبان میں وضوح کی صفت موجود نہ ہوتی تو اس کو سننا اُن کو غیر معمولی طور پر متاثر بھی نہیں کر سکتا تھا۔

زبان میں معنوی تسلسل کا یہ معاملہ اتنا زیادہ اہم ہے کہ کسی بھی عذر کی بنا پر اس میں تبدیلی کو قبول نہیں کیا جاتا، کیوں کہ ہر تبدیلی وضوح کو متاثر کرے گی۔ زبان کے الفاظ میں ان کے معانی کا تسلسل اتنا ہی زیادہ اہم ہے جتنا کہ خود زبان اہم ہے۔ زبانوں کے الفاظ کا تلفظ اگر محفوظ نہ رہے تو ان الفاظ کی درست ادائیگی ممکن نہ ہوگی۔ اسی طرح زبانوں کے الفاظ کا معنوی تسلسل اگر باقی نہ رہے تو زبان ایک قابلِ فہم زبان کی حیثیت سے اپنا وجود ختم کر دے گی۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2014 All issues

Printed page