وأحياناً على بكر أخينا إذا لم نجد إلا أخانا
الرسالہ، اگست ۲۰۱۴، صفحہ ۲۵
مثال کے طور پر تمام زبانوں میں کیفیت کو دل سے منسوب کیا جاتا ہے۔ مثلاً انگریزی میں کہا جاتا ہے کہ دل کی پوری آمادگی کے ساتھ (wholeheartedly)۔ موجودہ زمانے میں سائنس کی تحقیقات سے یہ ثابت ہوا ہے کہ ہر قسم کی کیفیات کا مرکز دماغ (mind) ہے۔ دل کا تعلق صرف گردشِ خون (circulation of blood) سے ہے۔
اس تحقیق کے باوجود زبان میں یہ تبدیلی نہیں کی گئی کہ ہول ہارٹڈلی کے بجائے ہول مائنڈلی (wholemindedly) کہا جانے لگے۔ کیوں کہ اس سے زبان کا معنوی تسلسل متاثر ہو رہا تھا اور زبان کے معنوی تسلسل کے متاثر ہونے کا مطلب یہ تھا کہ لکھنے اور پڑھنے والوں کے لیے زبان کے وضوح کی صفت باقی نہ رہے۔ اس لیے معنوی تسلسل کے پہلو کی رعایت کی گئی اور زبان کے استعمال کے اعتبار سے اس کو باقی رکھا گیا۔ حالاں کہ علم تشریح الاعضا (anatomy) میں اب دل (heart) کا مطالعہ صرف اس حیثیت سے کیا جاتا ہے کہ وہ گردش خون کو قائم رکھنے کا ذریعہ ہے۔ اسی طرح دنیا کی تمام زبانوں میں چاند کی روشنی (moonlight) کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے، حالاں کہ جدید فلکیات کے مطالعے سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ چاند میں اپنی کوئی روشنی نہیں۔ رات کے وقت چاند کے اوپر جو روشنی دکھائی دیتی ہے، وہ دراصل چاند کی سطح پر سورج کی روشنی کے انعکاس (reflection) کی بنا پر ہے۔ اس دریافت کے باوجود تمام زبانوں میں اب بھی چاند کی روشنی (moonlight) کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ ایسا نہیں ہوا کہ اس تحقیق کے بعد اس ظاہر کے لیے ’مون لائٹ‘ کے لفظ کو متروک قرار دے دیا جائے اور اس کی جگہ اس کو سن لائٹ ریفلیکٹڈ بائی مون (sunlight reflected by moon) کہا جانے لگے۔ ایسا اس لیے ہوا کہ اس معاملے میں لفظ کو بدلنا صرف اس قیمت پر ہوتا کہ لفظ کا معنوی تسلسل ٹوٹ جائے اور زبان میں وضوح کی صفت باقی نہ رہے۔
یہی معاملہ قرآن کا بھی ہے جو عربی مبین کی زبان میں اترا ہے۔ عربی زبان بھی اُسی طرح لفظی اور معنوی تسلسل کے ذریعے بنی ہے جس طرح دوسری زبانیں بنی ہیں۔ انسانوں کی ایک بڑی جماعت
‹ Previous page Next page › Contents of August 2014 All issues