Al-Risala · August 2014 · page 26

غیر علمی طریق مطالعہ

الرسالہ، اگست ۲۰۱۴، صفحہ ۲۶

لمبی مدت تک عربی زبان بولتی اور لکھتی رہی۔ اس طرح لوگوں کے اندر نسل در نسل یہ لسانی عمل جاری رہا، یہاں تک کہ لفظی اور معنوی تسلسل کے نتیجے میں عربی زبان آخری حد تک معلوم اور متعین زبان بن گئی۔ یہی وجہ ہے کہ ساتویں صدی عیسوی کے ربع اول میں جب قرآن عربی زبان میں اترا تو فورا ہی اس نے سننے والوں کے ذہن کو ایڈریس کیا۔ انسانوں کی بڑی تعداد نہ صرف قرآن پر ایمان لائی، بلکہ اس نے عربی زبان بھی سیکھی، تاکہ وہ قرآن کو اس کی اصل زبان میں سمجھ سکے۔ اسلام سے پہلے عربی زبان عرب میں موجود تھی، لیکن اُس وقت وہ زیادہ تر ایک قبائلی زبان کی حیثیت رکھتی تھی۔ جلد ہی ان تمام قبائل نے اسلام قبول کر لیا۔ اس کے بعد انھوں نے بڑے پیمانے پر عربی زبان کی خدمت کی۔ انھوں نے عربی زبان کے لغات تیار کیے، انھوں نے عربی زبان کو بول چال کے دائرے سے نکال کر لکھنے کی زبان بنا دیا۔ انھوں نے قرآن کے استعمالات اور قرآن کی اصطلاحات کو پوری طرح اخذ کیا۔ اُن پر کتابیں تیار کیں ۔ اس طرح زمین کے بڑے رقبے میں قرآن اور اس کی زبان کا چرچا وسیع پیمانے پر جاری ہو گیا۔ یہ عمل ہزار سال سے زیادہ مدت تک جاری رہا، یہاں تک کہ قرآن کا ہر بیان پوری طرح ایک ثابت شدہ بیان بن گیا۔ قرآن کی زبان، قرآن کے استعمالات، قرآن کی اصلاحیں کروڑوں لوگوں کے درمیان غیر مشتبہ طور پر مسلمہ حقیقت قرار پا گئیں۔ اب ہزار سال سے زیادہ مدت گزرنے کے بعد جو لوگ قرآن کی زبان، اس کے استعمالات اور اس کی اصطلاحات کو دوبارہ نیا مفہوم دینا چاہیں، تو یہ بلاشبہ نہ قابل قبول ہو گا ۔ یہ ایک ایسا فعل ہو گا جس کا جواز نہ اسلام میں ہے اور نہ علم میں ہے اور نہ لسانیات میں۔ وہ صرف اس قابل ہے کہ اس کو بے اصل قرار دے کر مکمل طور پر رد کر دیا جائے۔

غیر علمی طریق مطالعہ

جن لوگوں نے قرآن فہمی کے بارے میں مذکورہ موقف اختیار کیا ہے، وہ کوئی سادہ بات نہیں۔ اس موقف کا تعلق براہِ راست طور پر لسانیات (linguistics) سے ہے۔ یہ موقف اپنے وسیع پہلو(extended implication) کے اعتبار سے، اس معاملے میں عالمی طور پر مسلمہ اصول

‹ Previous page Next page › Contents of August 2014 All issues

Printed page