اہل قرآن کا کیس
الرسالہ، اگست ۲۰۱۴، صفحہ ۲۷
(universally accepted norm) سے ٹکراتا ہے۔ وہ علمی مطالعہ (scientific study) کے معروف طریقے کی نفی کے ہم معنی ہے۔
مطالعہ (study) انسانی سرگرمیوں میں سے ایک نہایت اہم سرگرمی ہے، مگر مطالعہ کسی ذہنی انار کی (intellectual anarchy) کا نام نہیں، بلکہ مطالعہ حقیقی معنوں میں وہ ہے جس میں انسانی ذہن کا منظم استعمال (disciplined exercise) کیا جائے۔ علمی مطالعے کا ایک معلوم اور ثابت شدہ فریم ورک ہے۔ جو مطالعہ اس فریم ورک کی پابندی کے ساتھ کیا جائے، وہ مطالعہ ہے اور جس مطالعے میں اس تسلیم شدہ فریم ورک کو نظر انداز کر دیا جائے، وہ مطالعہ نہیں ہے، بلکہ یقینی طور پر وہ ایک ایسی غیر علمی روش ہے جس کو ذہنی انار کی کے سوا کسی اور لفظ سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا۔ علمی مطالعہ ہمیشہ سے ایک سنجیدہ عمل سمجھا جاتا رہا ہے۔ موجودہ زمانے میں اس کی اہمیت بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ اب مطالعے کا علم (science of study) ایک مستقل موضوع بن چکا ہے۔ اس موضوع پر کثرت سے کتابیں لکھی گئی ہیں۔ اس موضوع کو علمیات یا نظریۃ المعرفہ (epistemology) کہا جاتا ہے۔
قرآن مذهبيات (الهيات) کے موضوع پر ایک معروف کتاب ہے۔ مطالعہ کتب کا جو طریقہ دوسری کتابوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، عین وہی طریقہ یقینی طور پر قرآن کے مطالعے کے لیے بھی استعمال کیا جائے گا۔ جو لوگ اس مسلمہ طریقے کو چھوڑ کر بطور خود کوئی دوسرا طریقہ اختیار کریں تو یہ طریقہ اہل علم کے درمیان کبھی قبولیت کا درجہ نہیں پاسکتا۔ اس معاملے میں کوئی خود ساختہ طریق مطالعہ (self-invented method of study) ہرگز قابل قبول نہیں۔
اہل قرآن کا کیس
یہ چند مثالیں ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جن لوگوں کو ”اہل قرآن“ کہا جاتا ہے، ان کا کیس علمی اعتبار سے کتنا زیادہ بے بنیاد (baseless) ہے۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم قرآن کو مانیں گے، لیکن ہم قرآن کا مفہوم صرف ڈکشنری کے ذریعے طے کریں گے، نہ کہ اُس تشریح کے ذریعے جو
‹ Previous page Next page › Contents of August 2014 All issues