Al-Risala · August 2014 · page 28

اہل قرآن کا کیس

الرسالہ، اگست ۲۰۱۴، صفحہ ۲۸

اہل اسلام کے درمیان رسول اور اصحابِ رسول کے زمانے سے لے کر اب تک تواتر کی بنا پر رائج ہیں۔ اس قسم کی بات بلاشبہ آخری حد تک غیر علمی ہے۔ یہ اصول نہ صرف قرآن کو سمجھنے میں مانع ہے، بلکہ وہ دنیا کی کسی بھی کتاب کو سمجھنے کے لیے یقینی طورپر وہ مانع کی حیثیت رکھتا ہے۔ مثال کے طور پر ہر ملک میں اساسی قانون کی ایک تحریری دستاویز ہوتی ہے جس کو کانسٹیییی ٹیوشن (constitution) کہا جاتا ہے۔ کانسٹ ٹیوشن کی یہ اصطلاح ایک معروف اصطلاح ہے جس کو ساری دنیا میں اس کے اصطلاحی معنیٰ کے اعتبار سے تسلیم کیا جاتا ہے، لیکن جہاں تک لغوی مفہوم کا تعلق ہے، کانسٹ ٹیوشن کے معنیٰ ساخت (structure) کے ہوتے ہیں۔ اب اگر کوئی شخص کانسٹ ٹیوشن کے لغوی مفہوم کو لے لے اور اس کی روشنی میں وہ مختلف ملکوں کے آئینی دستاویزات کا مفہوم متعین کرے تو یقینی طور پر غلطی کرے گا اور اس کی تشریحات بلا شبہ قابلِ رد قرار پائیں گی۔ کسی کتاب کے مطالعے کے لیے یہی واحد درست طریقِ مطالعہ ہے۔ جو لوگ اس طریقِ مطالعہ کو نہ مانیں، وہ دوسری کتابوں کو سمجھنے سے بھی قاصر رہیں گے اور ایسے لوگ قرآن کو سمجھنے سے بھی یقینی طور پر محروم ہو جائیں گے۔ ایسے لوگوں کا کیس علمی مطالعے کا کیس نہیں ہے، بلکہ وہ صرف فکری بھٹکاؤ کا کیس ہے۔ اس کی کوئی اہمیت نہ علمی اعتبار سے ہوگی اور نہ اسلامی اعتبار سے۔ قرآن یا انکارِ قرآن ایسی حالت میں کچھ لوگوں کا یہ کہنا کہ ہم قرآن کو صرف قرآن کے ذریعے سمجھیں گے، حدیث اور تاریخ اور دورِ اول کے علما کی تشریحات کو الگ کر کے ہم قرآن کا مطالعہ کریں گے۔ اسی طرح ان کا یہ کہنا کہ قرآن میں آئے ہوئے جن الفاظ کو اصطلاح (terms) کے مفہوم میں لیا جانے لگا ہے، وہ سب قرآن کو سمجھنے میں رکاوٹ ہیں۔ مثلاً صلوۃ، صوم، زکوۃ اور حج، وغیرہ۔ اُن کا کہنا ہے کہ ہم قرآن کے الفاظ کو ان کے اصطلاحی معنوں میں نہیں، بلکہ ان کے لغوی معنیٰ کے اعتبار سے لیں گے اور خالص لغوی انداز میں ان کا مفہوم متعین کریں گے۔

یہ نظریہ آخری حد تک غیر علمی نظریہ ہے۔ اس قسم کے نظریے کو لے کر دنیا کی کوئی کتاب سمجھی نہیں

‹ Previous page Next page › Contents of August 2014 All issues

Printed page