اہل قرآن کا کیس
الرسالہ، اگست ۲۰۱۴، صفحہ ۲۹
جاسکتی۔ اسکالرشپ کا کوئی بھی اصول اس نظریے کی حمایت نہیں کرتا۔ یہ نظریہ صرف کچھ ایسے لوگوں کی ذہنی پیداوار ہے جو غالباً نہ علم کے حدود کو سمجھتے اور نہ وہ لسانیات (linguistics) کے اصول سے کوئی واقفیت رکھتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن فہمی کا فریم ورک بھی وہی ہے جو دوسری علمی کتابوں کو سمجھنے کے لئے مسلمہ طور پر استعمال ہوتا ہے۔ اہلِ قرآن کا جو موقف ہے، وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے مکمل طور پر ایک غیر علمی موقف ہے، نہ کہ کوئی علمی موقف۔ مسلمہ علمی اصولوں میں سے کوئی بھی اصول اس نقطہ نظر کی حمایت نہیں کرتا۔ اس قسم کی انفرادیت علم کے میدان میں بلاشبہہ قابلِ رد ہے۔ اللہ اور رسول کی اطاعت قرآن میں ایک سے زیادہ مقام پر بار بار حکم دیا گیا ہے کہ اے ایمان والو، تم اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو۔ اس سلسلے میں ایک آیت کے الفاظ یہ ہیں: يٰئَيُّهَا الَّذِينَ اَمَنُوا اَطِيْعُوا اللَّهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ (4:59)۔
اس طرح کی آیتوں سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ اطاعت کے معاملے میں اللہ اور رسول کے درمیان تفریق جائز نہیں۔ یہ صحیح ہے کہ اصلًا جو چیز مطلوب ہے، وہ اللہ کی اطاعت ہے، لیکن یہ ایک عملی حقیقت ہے کہ خود اللہ کی اطاعت کی درست ادائیگی کے لیے رسول کی اطاعت لازمی طور پر ضروری ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو قرآن کی ایک آیت میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَمَا اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُولٍ اِلَّا لِيُطَاعَ بِاِذْنِ اللَّهِ (4:64) یعنی ہم نے جو بھی رسول بھیجا ہے، اسی لیے بھیجا ہے کہ اللہ کے اذن سے اس کی اطاعت کی جائے۔ اسی طرح قرآن میں ارشاد ہوا ہے: مَنْ يُطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ الله (4:80) یعنی جس نے رسول کی اطاعت کی، اس نے اللہ کی اطاعت کی۔
یہی بات ایک روایت میں بیان کی گئی ہے۔ اس سلسلے میں روایت کے الفاظ یہ ہیں : لا ألفين أحدكم متكأ على أريكته، يأتيه الأمر من أمري مما أمرت به أو نهيت عنه، فيقول لا ندري، ما وجدنا في كتاب الله اتبعناه (سنن الترمذي، رقم الحديث: 2663) یعنی تم
‹ Previous page Next page › Contents of August 2014 All issues