Al-Risala · August 2014 · page 30

اہل قرآن کا کیس

الرسالہ، اگست ۲۰۱۴، صفحہ ۳۰

میں سے کوئی شخص ایسا نہ کرے کہ وہ اپنی مسند پر ٹیک لگائے ہوئے ہو، اس کے پاس میرے حکموں میں سے کوئی حکم آئے جس میں میں نے کسی بات کو کرنے کا حکم دیا ہو اور کسی بات سے منع کیا ہو، پھر وہ کہے کہ ہم نہیں جانتے، ہم نے اللہ کی کتاب میں جو پایا، اس کی ہم نے پیروی کی۔ قرآن کی مذکورہ آیت اور اس حدیث رسول میں جو بات کہی گئی ہے، وہ نہایت سنگین بات ہے۔ مستقبل کے اُس فتنے کی طرف اشارہ ہے جب کہ امت میں ایسے افراد پیدا ہوں گے جو یہ کہیں گے کہ ہم قرآن کو مانتے ہیں، لیکن ہم حدیث رسول کو نہیں مانتے۔ اس سے مراد واضح طور پر وہی لوگ ہیں جن کو موجودہ زمانے میں منکرین حدیث یا اہل قرآن کہا جاتا ہے۔

اصل یہ ہے کہ دین اگر صرف انفرادی دین کا نام ہو تو دین کو عملاً ترک کرنے کے بعد بھی آدمی اپنے اس ترک کو چھپا سکتا ہے۔ وہ لوگوں کو یہ تاثر دے سکتا ہے کہ وہ دین پر قائم ہے۔ لیکن جب دین ایک انسٹی ٹیوشنلائزڈ دین (institutionalized religion) بن جائے تو اس قسم کی پوزیشن اختیار کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ اب دین کا ایک باقاعدہ اجتماعی فارم بننے کی وجہ سے ایسا ہو جاتا ہے کہ اگر کوئی شخص دینی نظام کا حصہ ہے تب بھی لوگ اُس کو جان لیتے ہیں اور اگر وہ دینی نظام کا حصہ نہیں ہے تب بھی لوگ اُس سے باخبر ہوجاتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ دین کا انسٹی ٹیوشنلائزیشن اس امر میں مانع ہے کہ کوئی شخص دین سے کٹ جائے، اس کے باوجود وہ انسٹی ٹیوشنلائزڈ دین یا بالفاظ دیگر مسلم معاشرے کا مقبول حصہ بنا رہے اور اس کے معاشرتی فوائد (social interest) میں کوئی فرق واقع نہ ہو۔ یہ شعوری یا غیر شعوری طور پر عملاً وہی پالیسی ہے جس کو کور آپ (cover-up) پالیسی کہا جاتا ہے، جو حدیث کے انکار کے نام پر عملاً خود دین کے انکار کے ہم معنی ہے۔

جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہم قرآن کو مانیں گے، لیکن ہم حدیث کو نہیں مانیں گے، وہ دراصل یہ چاہتے ہیں کہ وہ دین کی ذمہ داریوں سے جدا بھی ہو جائیں اور اسی کے ساتھ وہ مسلم معاشرے کا حصہ بھی بنے رہیں، تا کہ ان کے دنیوی مفادات (worldly benefits) بدستور محفوظ رہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2014 All issues

Printed page