Al-Risala · August 2014 · page 31

اسلام ایک محفوظ دین

الرسالہ، اگست ۲۰۱۴، صفحہ ۳۱

مگر یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ اس طرح کی روش اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک بلا اعلان ارتداد (undeclared apostasy) یا جائز کردہ ارتداد (justified apostasy) ہے۔ جو لوگ ایسی روش اختیار کریں، وہ بلا شبہ ایک سنگین رسک (risk) لے رہے ہیں۔ ان کے لیے شدید طور پر یہ خطرہ ہے کہ ان کا کیس دنیا میں برہان سے محرومی کا کیس بن جائے اور آخرت میں اللہ کی ابدی رحمت سے محرومی کا کیس۔

اسلام ایک محفوظ دین

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ: اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَاِنَّا لَهُ لَحَفِظُونَ (15:9) یعنی بے شک ہم نے الذکر کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ اسی طرح قرآن کی ایک آیت یہ ہے: لَا يَأْتِيْهِ الْبَاطِلُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِ ؀ تَنْزِيْلُ مِنْ حَكِيْمٍ حَمِيْدٍ (41:42) یعنی اس میں نہ باطل اس کے آگے سے آسکتا ہے اور نہ اس کے پیچھے سے۔ یہ حکیم اور حمید کی طرف سے نازل کیا گیا ہے۔

ان آیتوں میں جس حفاظت کا ذکر ہے، اُس سے مراد براہ راست طور پر قرآن ہے، لیکن بالواسطہ طور پر اُس سے مراد وہ پورا دین اسلام ہے جس پر اللہ نے اپنی رضا مندی (5:3) کا اعلان کیا ہے۔ یہ محفوظ دین دنیا میں لوگوں کے لیے ہدایت الہی کا مستند ماخذ ہے اور آخرت کے اعتبار سے وہ لوگوں کے اوپر اللہ کی حجت ہے۔

اب یہ سوال ہے کہ یہ دین کس طرح ایک محفوظ دین بنا۔ یہ واقعہ معجزاتی طور پر نہیں ہوا، بلکہ وہ اسباب کے دائرے میں اُسی طرح وقوع میں آیا جس طرح اس عالم اسباب میں دوسری تمام باتیں وقوع میں آتی ہیں۔ اس معاملے پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے حفاظت دین کے اس کام کو اسباب کے دائرے میں انجام دیا، اور اس کی عملی صورت یہ تھی کہ اللہ نے اسلام کو ایک انسٹی ٹیوشنلائزڈ دین (institutionalized religion) کی حیثیت دے دی۔ اس سے پہلے دین اسلام کی حیثیت صرف ایک نظری صداقت کی تھی، لیکن انسٹی ٹیوشنلائزیشن (institutionalization) کے بعد یہ

‹ Previous page Next page › Contents of August 2014 All issues

Printed page