اسلام ایک محفوظ دین
الرسالہ، اگست ۲۰۱۴، صفحہ ۳۲
ہوا کہ دین اسلام کے ساتھ ایک مزید صفت جمع ہوگئی، یعنی اجتماعی سطح پر دین اسلام کو مسلسل طور پر ایک مظاہراتی (demonstrable) چیز بنا دینا۔ یہ تقریباً وہی چیز ہے جس کو تاریخی زبان میں عملی تواتر کہا جاتا ہے۔
دین کو انسٹی ٹیوشن کی صورت دینے کے لیے ایک ضروری چیز درکار تھی، اور وہ تھی اہل ایمان کی بڑی تعداد جو زمین کے وسیع رقبے میں پھیلی ہوئی ہو۔ اس طرح یہ ہوتا ہے کہ دین اسلام ہر دن لوگوں کے سامنے ایک قابل مشاہدہ چیز کی حیثیت سے مسلسل طور پر آتا رہتا ہے، یہاں تک کہ دین کی عملی صورت بھی اُسی طرح ثابت شدہ بن جاتی ہے جس طرح اس کی نظری صورت ہے۔ دین کی نظری صورت کتابوں میں محفوظ ہے اور دین کا فارم عملی تواتر یا انسٹی ٹیوشنلائزڈ دین کی صورت میں لوگوں کے لیے قابل مشاہدہ بنا ہوا ہے۔
دین اسلام کو ایک باقاعدہ انسٹی ٹیوشن کی صورت دینا اس لیے ممکن ہوا کہ اسلام کے ابتدائی دور میں ماس کنورزن (mass conversion) ہوا، لوگوں کی بڑی تعداد اسلام قبول کر کے دین اسلام کے دائرے میں داخل ہوگئی۔ اس طرح زمین کے بڑے رقبے میں مسلسل طور پر یہ اجتماعی واقعہ پیش آنے لگا کہ لوگ مختلف صورتوں میں قرآن کو یکساں طور پر پڑھ رہے ہیں، بے شمار مسجدوں میں بیک وقت ایک ہی پیٹرن پر اذان کی آوازیں بلند ہو رہی ہیں اور ایک ہی پیٹرن پر مسلسل اجتماعی صورت میں نمازیں ادا کی جارہی ہیں، ایک مقرر مہینہ (رمضان) میں ہر جگہ لوگ ایک ہی انداز میں روزے رکھ رہے ہیں، ایک ہی مقرر تاریخ میں بڑی تعداد میں لوگ دنیا کے مختلف مقامات سے آکر مکہ میں اجتماعی طور پر حج کے مناسک ادا کر رہے ہیں۔ اِسی طرح بے شمار مدرسوں میں روزانہ ایک ہی نہج پر بڑی تعداد میں لوگ قرآن اور حدیث کا چرچا کر رہے ہیں، وغیرہ۔
یہی مطلب ہے دین اسلام کو انسٹی ٹیوشنلائزڈ دین بنانے کا۔ جب دین اسلام اس طرح مسلسل طور پر ایک قابلِ مظاہرہ چیز بن جائے تو اُس وقت اس کی ہیئت ایک ایسے عملی واقعے کی ہو جاتی ہے جس کا انکار ممکن نہ ہو۔ نظری چیزوں میں انسان کے لیے اقرار و انکار کا آپشن (option)
‹ Previous page Next page › Contents of August 2014 All issues