اسلام ایک محفوظ دین
الرسالہ، اگست ۲۰۱۴، صفحہ ۳۳
موجود رہتا ہے، لیکن جو نظریہ عملی صورت میں ڈھل کر قابلِ مشاہدہ بن جائے، اُس سے انکار اتنا ہی ناممکن ہو جاتا ہے جتنا کہ سورج کے نکلنے کے بعد سورج کا انکار۔
یہی وجہ ہے کہ واضعینِ حدیث نے اسلام کے اُس ثابت شدہ وزن (established version) پر کوئی حدیث وضع نہیں کی جو کہ بڑی تعداد کے اجتماعی عمل (عملی تواتر) کے ذریعے ایک باقاعدہ انسٹی ٹیوشن کی صورت اختیار کر چکا تھا۔ مثلاً کوئی موضوع حدیث ایسی نہیں ہے جو یہ بتائے کہ قرآن کی آیت الحمد للہ رب العالمین اصل میں الشکر للہ رب العالمین کے الفاظ میں اتری تھی۔ اسی طرح کوئی موضوع حدیث اس مفہوم کی نہیں ہے کہ سورہ الاخلاص کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ’قل‘ کے بغیر صرف ’ھو اللہ أحد‘ کی صورت میں پڑھا۔ وغیرہ۔ یہی معاملہ انسٹی ٹیوشنلائزڈ دین کے دوسرے پہلوؤں کا ہے۔ مثلاً کوئی موضوع حدیث اس مفہوم کی نہیں ہے جس میں یہ بتایا گیا ہو کہ فجر کی نماز تین رکعت ہے اور مغرب کی نماز دو رکعت۔ اسی طرح کوئی موضوع روایت ایسی نہیں ہے جو یہ بتائے کہ روزہ رکھنے کا مہینہ رمضان نہیں ہے، بلکہ رجب ہے، یا یہ کہ حج کی ادائیگی کا مہینہ ذوالحجہ نہیں ہے، بلکہ محرم ہے، وغیرہ۔ حدیث کی مستند کتابوں مثلاً موطا امام مالک اور صحیح البخاری میں جو روایتیں ہیں، عام طور پر وہ سب انسٹی ٹیوشنلائزڈ اسلام کی موافقَت میں ہیں، اس کے خلاف نہیں۔
جیسا کہ معلوم ہے، وضعِ حدیث کا واقعہ عملاً ظہورِ اسلام کے تقریباً ڈیڑھ سو سال بعد پیش آیا۔ اُس وقت تک انسٹی ٹیوشنلائزڈ اسلام اپنے تمام پہلوؤں کے اعتبار سے تشکیل پا چکا تھا۔ اُس کا ہر پہلو اجتماعی سطح پر ایک مسلّمہ واقعہ بن چکا تھا۔ اس لیے واضعینِ حدیث نے جو حدیثیں وضع کیں، وہ دین کے اُس مجموعے کے بارے میں نہ تھیں جو کہ اب انسٹی ٹیوشنلائزڈ دین بن چکا تھا، بلکہ وہ اس کے دوسرے پہلوؤں کے بارے میں تھیں۔ مثلاً قرآن کے متن کے بارے میں کوئی موضوع حدیث موجود نہیں، البتہ فضائل قرآن کے باب میں موضوع روایتیں پائی جاتی ہیں۔ اسی طرح پانچ وقتہ نماز کو اس سے کم یا زیادہ بتانے کے لیے کوئی موضوع روایت موجود نہیں، البتہ نماز کے
‹ Previous page Next page › Contents of August 2014 All issues