Al-Risala · August 2014 · page 34

اسلام ایک محفوظ دین

الرسالہ، اگست ۲۰۱۴، صفحہ ۳۴

فضائل کے بارے میں موضوع روایتیں موجود ہیں۔ اسی طرح ماہِ رمضان کے روزے کی فرضیت کے خلاف کوئی موضوع روایت موجود نہیں، البتہ روزے کے فضائل کے بارے میں موضوع روایتیں موجود ہیں، وغیرہ۔

اسلام کی تاریخ میں بعد کے زمانے میں اس طرح کی جو حدیثیں وضع کی گئیں، ان کا مقصد تشویق (motivation) تھا، یعنی کسی عمل کے بڑے بڑے فائدے بتا کر لوگوں کو اس کی طرف راغب کرنے کی کوشش کرنا۔ اسلام میں وضع کا یہ طریقہ مسیحی قوموں کی مضاہات (9:30) کے طور پر پیدا ہوا۔ مسیحیت میں سینٹ پال کے زمانے میں یہ طریقہ رائج ہوا کہ لوگوں کو مسیحیت کی طرف راغب کرنے کے لیے جھوٹی باتیں وضع کی جائیں۔ (8-3:7 Romans)۔ اس طریقے کو بعد کی مسیحی روایات میں مقدس فریب (Pious Fraud) کہا جاتا ہے۔ برسبیلِ مضاہات یہ مسیحی طریقہ مسلمانوں میں رائج ہوا۔ یہ طریقہ زیادہ تر مسیحی نو مسلموں کے ذریعے اسلام میں داخل ہوا۔ موضوع روایات کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ لیکن وہ اسلام کے لیے کوئی خطرہ نہیں، کیوں کہ دورِ اول کے محدثین نے کسی حدیث کو قبول کرنے یا رد کرنے کے لیے نہایت محکم اصول بنا دئے ہیں جن کو اصولِ علمِ حدیث کہا جاتا ہے۔ علمِ حدیث ایک مستقل موضوع ہے۔ یہ علم اتنا زیادہ محکم اور منظم بن چکا ہے کہ اس کی روشنی میں کسی بھی روایت کو جانچ کر قطعیّت کے ساتھ یہ معلوم کیا جا سکتا ہے کہ کون سی حدیث صحیح ہے اور کون سی حدیث موضوع۔ روایات کو جانچنے کا یہ کام مختلف محدثین نے انجام دیا ہے۔ موجودہ زمانے میں شیخ ناصر الدین البانی (وفات: 1999) اور دوسرے محقق علما نے طویل تحقیق کے بعد اس کام کو نہایت مستند طور پر انجام دے دیا ہے۔

اسی طرح دوسرے اجزاءِ دین کا معاملہ ہے۔ دین کے جو اجزا انسٹی ٹیوشنلائزڈ اسلام کا حصہ بن چکے تھے، ان کے بارے میں کوئی موضوع روایت موجود نہیں، البتہ دوسرے پہلوؤں کے بارے میں کثرت سے موضوع روایتیں پائی جاتی ہیں۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہ دین کا وہ حصہ جس کو سنتِ ثابتہ، بالفاظِ دیگر انسٹی ٹیوشنلائزڈ دین کہا جاتا ہے، وہ موضوع روایتوں سے یکسر خالی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2014 All issues

Printed page