نجاتِ فرد، حفاظتِ دین
الرسالہ، اگست ۲۰۱۴، صفحہ ۳۵
انسٹی ٹیوشنلائزڈ دین کا حصہ بن جانے کی وجہ سے اس میں کوئی کمی یا زیادتی کرنا ممکن نہ ہوسکا۔ البتہ دین کا وہ حصہ جس کا تعلق منفرد اقوال سے ہے، یعنی ان اقوال سے جو اخبارِ آحاد (احادیث) کی کیٹیگری میں آتے ہیں، اُس میں امکانی طور پر ہر قسم کی روایتیں پائی جاتی ہیں۔
نجاتِ فرد، حفاظتِ دین
اسلام کے مطابق، نجات (salvation) کا معاملہ ایک مبنی بر فرد معاملہ ہے۔ اسلام میں گروہی نجات کا کوئی تصور نہیں۔ دوسرے الفاظ میں اس کو پرسنلائزڈ مذہب (personalized religion) کہا جاسکتا ہے۔ اس معاملے کا دوسرا پہلو وہ ہے جس کا تعلق حفاظت دین سے ہے۔ دین کی حفاظت انفرادی اسلام کے ذریعے نہیں ہوسکتی۔ اس کے لیے ضرورت ہے کہ بڑے پیمانے پر اسلام کا ایک اجتماعی ڈھانچہ موجود ہو۔ اسلام کے اس دوسرے پہلو کو انسٹی ٹیوشنلائزڈ مذہب (institutionalized religion) کہا جا سکتا ہے۔
اس معاملے کو سمجھنے کے لیے ایک مثال لیجئے ۔ صدقہ (charity) ابتدائی طور پر ایک انفرادی معاملہ ہے، یعنی ایک آدمی کا دوسرے آدمی کی مدد کرنا۔ صدقے کی اس صورت کو انفرادی صدقہ (personal charity) کہا جائے گا۔ صدقے کی دوسری صورت وہ ہے جس کو اجتماعی سطح پر ادا کیا جائے اور اس طرح بڑے پیمانے پر اس کا ایک نظام بن جائے۔ صدقے کی اس دوسری صورت کو انسٹی ٹیوشنلائزڈ صدقہ (institutionalized charity) کہا جائے گا۔
جیسا کہ عرض کیا گیا، اسلام میں نجات ایک انفرادی واقعے کا نام ہے، لیکن اسی کے ساتھ اسلام کی ایک ضرورت یہ ہے کہ وہ تاریخ میں مکمل طور پر محفوظ ہو جائے، تا کہ قیامت تک کے لوگ اس کا عملی مشاہدہ کرتے رہیں۔ حفاظتِ دین کی اس ضرورت کو اسلام میں اس طرح حاصل کیا گیا کہ اسلام کے مختلف اداروں کے نظام کے ذریعے اس کو ایک انسٹی ٹیوشنلائزڈ دین (institutionalized religion) کی حیثیت دے دی گئی۔ یہی عملی نظام ہے جس نے دینِ اسلام کو محفوظ کر کے اس کو لوگوں کے لیے ایک معروف اور مسلّم حقیقت بنا دیا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2014 All issues