نجاتِ فرد، حفاظتِ دین
الرسالہ، اگست ۲۰۱۴، صفحہ ۳۶
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَاتِ (صحیح البخاري، رقم الحديث: 1)۔ اس حدیث سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ دین میں جن اعمال کی تعلیم دی گئی ہے، ان کی قبولیت کا معیار نیت (intention) ہے، جو کہ انسان کی ایک داخلی کیفیت کا نام ہے۔ اسی طرح حدیث میں آیا ہے : صلوا كما رأيتموني أصلي (صحیح الجامع للألباني، رقم الحديث : (893) یعنی جس طرح تم نے مجھ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، اُسی طرح تم نماز پڑھو۔ اسی طرح آپ نے فرمایا: خذوا عني مناسککم (مسند احمد، رقم الحديث: 3548) یعنی جس طرح تم نے مجھ کو حج کرتے ہوئے دیکھا، اسی طرح تم حج کرو۔
اسی طرح اس مفہوم کی اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ دینی اعمال کا ایک مقرر فارم ہے، یہ فارم لازمی طور پر دینی اعمال کا ناقابلِ تقسیم حصہ ہے، دونوں کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن جہاں تک خدا کے یہاں اعمال کی قبولیت کا تعلق ہے، اس کا معاملہ عامل کے قلبی اخلاص پر مبنی ہے، جیسا کہ قرآن میں آیا ہے: لَنْ يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَكِنْ يَنَالُهُ التَّقْوَى مِنْكُمْ (22:37)۔
اسی بات کو دوسرے الفاظ میں اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ نجات ایک انفرادی معاملہ ہے جس کا تعلق اصلاً آخرت سے ہے اور حفاظت دین ایک اجتماعی معاملہ ہے جو اصلاً موجودہ دنیا کا ایک ظاہر ہے۔ کسی آدمی کی نجات کا تحقق صرف آخرت میں ہوگا۔ لیکن جہاں تک حفاظت دین کا معاملہ ہے، اس کی ضرورت موجودہ دنیا کی نسبت سے ہے۔ آخرت میں حفاظتِ دین کی ضرورت باقی نہ رہے گی۔ بے روح اسلام اہل قرآن کہلائے جانے والے لوگوں کا گروپ اگر چہ بظاہر قرآن اور اسلام کا نام لیتا ہے، لیکن غور کیجئے تو اُن کا قرآن سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کے بارے میں یہ کہنا صحیح ہوگا کہ وہ حقیقتاً بے روح اسلام (despiritualized Islam) کا ایک ورژن (version) تیار کر رہے ہیں۔ وہ اسلام کا انکار کیے بغیر اسلام کی نفی کر رہے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2014 All issues