Al-Risala · August 2014 · page 42

قرآن اور پیغمبر

الرسالہ، اگست ۲۰۱۴، صفحہ ۴۲

نئے تقاضے سامنے آتے ہیں۔ یہ زمانی تقاضے اپنی نوعیت کے اعتبار سے ہمیشہ اضافی (relative) ہوتے ہیں، وہ حقیقی (real) نہیں ہوتے۔ اس لیے بدلے ہوئے حالات میں نئی کتاب کی ضرورت نہیں ہوتی۔ جو ضرورت ہوتی ہے، وہ صرف یہ کہ حالات کے مطابق، اصل کتاب کی تعلیمات کا دوبارہ انطباق (reapplication) تلاش کیا جائے۔ مہبطِ قرآن کے بعد یہ سلسلہ بعد کی تاریخ میں برابر جاری رہا اور اب بھی جاری ہے۔ البتہ پیغمبر کی تشریح اور بعد کے علما کی تشریح میں ایک اصولی فرق موجود ہے، وہ یہ کہ پیغمبر کی تشریح کی حیثیت مستند تشریح کی ہوگی، جب کہ بعد کے علما کی تشریح کی حیثیت صرف اجتہادی تشریح کی۔

قرآن اور پیغمبر

جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حذف (detach) کرکے قرآن کو سمجھیں گے وہ اپنے اس قول سے صرف یہ بتا رہے ہیں کہ وہ قرآن کی اسکیم سے مکمل طور پر بے خبر ہیں۔ پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کی اسکیم کا ایک لازمی حصہ ہیں۔ پیغمبر کے بغیر قرآن کو سمجھنے کا دعویٰ کرنا بلا تشبیہہ ایسا ہی ہے جیسے البرٹ آئن سٹائن کو حذف کرکے نظریہ اضافیت (theory of relativity) کو سمجھنا ممکن نہیں ہے، اسی طرح پیغمبر کے بغیر قرآن کو سمجھنا سرتا سر نا ممکن ہے۔ مثال کے طور پر قرآن میں بار بار اُن نبیوں کا حوالہ دیا گیا ہے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے دنیا میں آئے۔ یہ تمام پیغمبر جدید انسان کی نسبت سے، صرف ایک مذہبی عقیدہ کی حیثیت رکھتے ہیں، ان کی حیثیت تاریخی پیغمبر (historical prophet) کی نہیں۔ کیوں کہ مدوّن تاریخ (recorded history) میں ان پیغمبروں کا حوالہ (reference) موجود نہیں ہے۔ قرآن کی دعوت میں مدعو کی نسبت سے، گویا یہ ایک خلا پایا جاتا تھا۔ یہاں مدعو کہہ سکتا تھا کہ قرآن جن پیغمبروں کا حوالہ دے کر اپنی بات پیش کرتا ہے، ان کا ریکارڈ مدوّن تاریخ میں موجود نہیں۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت مدعو کی اس بات کا محکم جواب ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان کی زندگی میں ایسے واقعات پیش آئے کہ آپ کی ذات اور آپ کا

‹ Previous page Next page › Contents of August 2014 All issues

Printed page