قرآن اور سنت متواترہ
الرسالہ، اگست ۲۰۱۴، صفحہ ۴۳
مشن مدون تاریخ کا حصہ بن گیا ۔ ایک مستشرق (orientalist) نے اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہوئے لکھا ہے:
Muhammad was born within the full light of history. پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی وہ خاص حیثیت ہے جس کو قرآن میں مقام محمود (17:79) کا عنوان دیا گیا ہے۔ ’’مقامِ محمود‘‘ سے مراد تاریخی مقام یا تاریخی پیغمبر ہے۔ پیغمبر اسلام نبیوں کے سلسلے کی تاریخی تکمیل ہیں۔ محمود کا لفظی مطلب ہے: تعریف کیا ہوا یا اعتراف کیا ہوا۔ یہاں تاریخی پیغمبر سے مراد ہے ۔ نبی معترف (historically acknowledged prophet)۔
ایک حدیث رسول میں بتایا گیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نبیوں کی عظیم عمارت کا ایک لبنۃ‘ (صحیح البخاري، رقم الحديث : 3535) ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نبیوں کی طویل فہرست کے باوجود مدعو کی نسبت سے، بظاہر ایک کمی پائی جاتی تھی، وہ یہ کہ پچھلے انبیا اللہ کے سچے رسول ہونے کے باوجود مورخین کے ریکارڈ میں درج نہ ہو سکے۔ گویا خالص مور خانہ اعتبار سے، یہ انبیا صرف اعتقادی انبیا تھے، وہ تاریخی انبیا نہ تھے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا مشن استثنائی طور پر ایک ایسا مشن تھا جو مورخین کے معیار کے مطابق، عالمی تاریخ میں ریکارڈ ہو گیا۔ اس طرح پیغمبر اسلام کے ذریعے استثنائی طور پر ایک تاریخی پیغمبر (historical prophet) وجود میں آیا۔ اس طرح یہ ہوا کہ نہ صرف پیغمبر اسلام ایک تاریخی پیغمبر بن گئے، بلکہ آپ کے سوا دوسرے پیغمبروں کی حیثیت بھی اصولی طور پر تاریخی پیغمبر کی ہوگئی، پیغمبر اسلام اگر اس تاریخی فہرست کا براہ راست حصہ تھے تو دوسرے تمام پیغمبر اس تاریخی فہرست کا بالواسطہ حصہ۔
قرآن اور سنت متواترہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے جو دین ہم کو ملا ہے، بنیادی طور پر اس کی دو قسمیں ہیں ۔ قرآن اور سنتِ متواترہ۔ سنتِ متواترہ عملاً اُس دینِ اسلام کا مستند حصہ بن چکی ہے جس کو ہم نے انسٹی ٹیوشنلائزڈ اسلام کہا ہے۔ یہ اُسی طرح قابلِ اتباع ہے، جس طرح قرآن کی آیات ۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2014 All issues