عبادت اور عملی تواتر
الرسالہ، اگست ۲۰۱۴، صفحہ ۴۴
سنتِ متواترہ کے سلسلے میں اب ہم کو صرف اتباع کرنا ہے، نہ کہ اُس پر بحث کرنا۔ جہاں تک اخبارِ آحاد (احادیث) کا تعلق ہے، اُن کی نوعیت کسی قدر مختلف ہے۔ اخبارِ آحاد عملًا ظنی کے حکم میں ہیں، لیکن ظنی کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ وہ موضوع روایت کی طرح قابلِ رد ہیں۔ ظنی کا مطلب صرف یہ ہے کہ وہ تحقیق مزید کا موضوع (subject to rechecking) ہیں، اور جب تحقیق کے ذریعے اخبارِ آحاد کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہو جائے تو وہ بلا شبہ دوسری صحیح احادیث کی طرح قابلِ اتباع ہو جائیں گی۔ اس معاملے میں یہی جمہور کا مسلک ہے۔ (حدیث الآحاد حجة، يجب العمل به إذا صح، وعلى هذا جمهور المسلمين)
عبادت اور عملی تواتر
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ عبادت انسان کی تخلیق کا اصل مقصد ہے (51:56)۔ قرآن میں بار بار اللہ کی عبادت کرنے کا حکم دیا گیا ہے (2:21)۔ انسان سے جو اصل چیز مطلوب ہے، وہ یہی عبادت ہے۔ اللہ معبود ہے اور انسان اس کا عابد۔ اسی عبادتی تعلق کی درستگی پر دین کا مدار ہے۔ عبادت کی اصل روح ایک ہے، اور وہ ہے اپنے آپ کو آخری حد تک جھکانا اور پست کرنا (أصل العبودية: الخضوع والتذلل)۔ اس روح عبادت کا اظہار مختلف صورتوں میں ہوتا ہے۔ ان میں سے ایک صلوۃ (نماز) ہے۔ صلوۃ کی اصل حقیقت خشوع (23:2) ہے۔ لیکن صلوۃ کا ظاہری فارم بھی اس خشوع کا ایک لازمی حصہ ہے، جیسا کہ انسان کے وجود میں روح کے ساتھ جسم اس کی شخصیت کا ایک لازمی اور ناقابلِ تقسیم حصہ ہوتا ہے۔
موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں ایک طبقہ ایسا ظاہر ہوا ہے جو کہتا ہے کہ پنج وقتہ نماز کا موجودہ نظام تدوین حدیث کے بعد وجود میں آیا ہے۔ یہ نظریہ سرتاسر بے بنیاد ہے، تاریخ ہرگز اس نظریے کی تائید نہیں کرتی۔ حقیقت یہ ہے کہ نماز کا موجودہ نظام اگر حدیث کی تدوین کے بعد قائم ہوتا تو وہ سرے سے قائم ہی نہ ہوتا۔ پنج وقتہ نمازوں کا موجودہ نظام اسی وجہ سے قائم ہے کہ وہ خود پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں باقاعدہ طور پر وجود میں آ چکا تھا اور اس کے بعد وہ تاریخ میں بلا انقطاع مسلسل طور پر جاری رہا۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2014 All issues