Al-Risala · August 2014 · page 45

عبادت اور عملی تواتر

الرسالہ، اگست ۲۰۱۴، صفحہ ۴۵

تاریخ کے مطابق ، احادیث رسول کی جمع و تدوین عملاً تیسری صدی ہجری میں عباسی دور میں ہوئی۔ حدیث کی جمع و تدوین سے پہلے پنج وقتہ نمازوں کا نظام بن چکا تھا۔ لوگ مسجدوں میں روزانہ جماعت کے ساتھ مقرراوقات پر نماز ادا کر رہے تھے۔ نماز باجماعت کا یہ نظام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں قائم ہو چکا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ: صلوا كما رأيتموني أصلي (صحيح الجامع للألباني، رقم الحديث : 893)۔

یہ حدیث اپنی حقیقت کے اعتبار سے ، صرف ایک امر رسول نہیں ہے، بلکہ وہ ایک امر فطرت ہے۔ نماز جیسی عبادت جس کا ایک فارم ہو، وہ دیکھے بغیر ہرگز ادا نہیں کی جاسکتی۔ ضروری ہے کہ اس کا ایک ماڈل موجود ہو جس کو دیکھ کر لوگ اُسی طرح اس کو دہراتے رہیں۔ اس کے بعد جو واقعہ پیش آیا، وہ یہ تھا کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ، ہجرت کے بعد مسجد کی تعمیر ہوئی اور اس میں نماز با جماعت قائم کی گئی۔ یہ واقعہ خود قرآن (9:108) سے ثابت ہے۔

آپ کے صحابہ (ہم عصر اہلِ ایمان) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو براہ راست طور پر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا اور اسی نمونہ رسول کے مطابق انھوں نے نمازیں ادا کیں۔ اس کے بعد اگلی نسل (تابعین) نے صحابہ کو دیکھا اور ان کے نمونے کے مطابق، انھوں نے نمازیں ادا کیں۔ اس کے بعد مسلمانوں کی تیسری نسل (تبع تابعین) نے تابعین کو دیکھا اور ان کے نمونے کے مطابق انھوں نے نماز ادا کی۔ اسی طرح یہ سلسلہ جاری رہا اور اگلی نسل کے لوگ پچھلی نسل کے لوگوں کو دیکھ کر بڑی تعداد میں اجتماعی طور پر مقرراوقات میں نماز ادا کرتے رہے۔ یہ سلسلہ اب تک بلا انقطاع جاری ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ کہنا کہ حدیثوں کی جمع و تدوین کے بعد نمازیں شروع ہوئیں ، یہ ایک سرتا سر بے بنیاد (baseless) بات ہے۔ نماز ایک عملی عبادت ہے، وہ صرف حدیثوں کو پڑھ کر ادا نہیں کی جاسکتی۔ حدیثوں کو پڑھ کر زیادہ سے زیادہ نماز کا ایک نظریاتی تصور (theoretical concept) بن سکتا ہے، مگر صرف نظریاتی تصور سے عملی عبادت ادا نہیں کی جاسکتی۔ نماز کی ادائیگی کے لئے ضروری ہے کہ اس کا ایک عملی نمونہ (practical model) موجود ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2014 All issues

Printed page