Al-Risala · August 2014 · page 46

خلاصہ بحث

الرسالہ، اگست ۲۰۱۴، صفحہ ۴۶

یہ صحیح ہے کہ حدیثوں میں نماز کے طریقے اور آداب کا ذکر بطور اصول کیا گیا ہے، لیکن یہ نماز کا صرف ایک نظریاتی بیان (theoretical description) ہے۔ اور صرف نظریاتی بیان نماز کی عملی ادائیگی کے لئے کافی نہیں۔ بالفرض اگر حدیث کی جمع و تدوین سے پہلے نماز کا عملی نمونہ موجود نہ ہوتا اور لوگ حدیثوں کو پڑھ کر نماز ادا کرنا شروع کرتے تو ناممکن تھا کہ نماز کا کوئی واحد عملی نظام بن سکے۔ ایسی حالت میں عملی طور پر نماز کی اتنی زیادہ صورتیں ہوتیں کہ جتنے زیادہ آدمی اتنی ہی زیادہ نماز کی صورتیں ۔ اس طرح عبادت کا ایک جنگل تو وجود میں آسکتا تھا، لیکن عبادت کا ایک یکساں نظام (uniform system) قائم ہونا ہر گز ممکن نہ تھا۔

خلاصہ بحث

یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ قرآن اپنے الفاظ کے اعتبار سے بھی محفوظ ہے اور اسی طرح قرآن کے معنی اور مفہوم بھی پوری طرح محفوظ ہیں۔ حفاظت کا یہ معاملہ براہ راست طور پر خدا کے فیصلے کے تحت ہوا ہے۔

اب اگر اکیسویں صدی میں کوئی شخص اٹھے اور کہے کہ امت مسلمہ قرآن کے الفاظ کے جو معنی اب تک سمجھتی رہی ہے، وہ غلط ہے، یا مفسرین، قرآن کے الفاظ مثلاً صلوة اور زکوۃ اور حج، وغیرہ کے جو معنی بتاتے رہے ہیں، وہ درست نہیں، تو اس قسم کا بیان کوئی سادہ بیان نہیں۔ وہ براہ راست طور پر اللہ کے فیصلے کو چیلنج کرنے کے ہم معنی ہے، وہ عملاً خود قرآن کی تردید ہے۔

اس دنیا میں اللہ نے ہر انسان کو آزادی دی ہے۔ اس بنا پر ایک انسان یہ کر سکتا ہے کہ وہ یہ کہے کہ میں قرآن کو نہیں مانتا، لیکن یہ حق کسی کو حاصل نہیں کہ وہ قرآن کو مانے اور پھر یہ کہے کہ قرآن کے معنی بعد کے زمانے میں بدل گئے۔

قرآن کی حفاظت کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایسا محکم انتظام کیا ہے کہ اس میں کوئی بھی شخص کسی قسم کی تبدیلی نہ کر سکے۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہ کسی بھی شخص کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ تاریخ کے درمیان میں اٹھے اور قرآن کے معنوی تواتر کو توڑ دے۔ قرآن میں اس قسم کی مداخلت (intervention)

‹ Previous page Next page › Contents of August 2014 All issues

Printed page