یب یں،
الرسالہ، اگست ۲۰۱۴، صفحہ ۴۷
کا مطلب یہ ہوگا کہ بعد کی نسلوں کے لیے قرآن درست طور پر قابلِ فہم نہ رہے اگر ایسا ہو تو اس کا کا مطلب یہ ہوگا کہ بعد کی نسلوں کے لیے قرآن درست طور پر قابل فہم نہ رہے۔ الّا یہ کہ ہو اس کا مطلب نعوذ باللہ، یہ ہوگا کہ قرآن کی حفاظت کے بارے میں اللہ کا فیصلہ باطل قرار پا گیا، وہ پوری تاریخ میں جاری نہ رہ سکا۔
قرآن کو ماننے یا نہ ماننے کا تعلق انسان کی شخصی آزادی سے ہے، جس کا حق ہر ایک کو فطری طور پر حاصل ہے، لیکن قرآن کی تاریخی محفوظیت کا تعلق تمام تر علم سے ہے اور علم کے معاملے میں کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ اپنی ذاتی رائے کی بنیاد پر ایک ایسا بیان دے جس کی تصدیق علم کے مسلمہ اصولوں سے نہ ہوتی ہو۔
پہلی بات کا تعلق انسان کی اپنی آزادی سے ہے۔ ہر انسان کو پیدائشی طور پر یہ حق دیا گیا ہے کہ وہ چاہے تو اپنی آزادی کا صحیح استعمال کرے اور چاہے تو ذاتی دائرے میں وہ اپنی آزادی کا غلط استعمال کرے۔ لیکن جہاں تک علم کے اُن اصولوں کا تعلق ہے جو اپنی تاریخ کے نتیجے میں یونی ورسل نارم (universal norms) کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں، اُن میں کسی انسان کو یہ حق نہیں کہ وہ اُن کو نہ مانے یا خود ساختہ طور پر وہ ان کا نیا مفہوم بیان کرے۔
بھوپال میں ماہ نامہ الرسالہ اور مطبوعات الرسالہ اور دعوتی لٹریچر حسب ذیل پتے پر دستیاب ہیں: Mr. Bilaluddin Al-Quran Mission 48, Aamwali Masjid, Jahangirabad, Bhopal (M.P.)
Mob. 09755300295, 07556542231 ہندوستان مابعد آزادی بحران اور اس کا حل (پریس ریلیز)
یب یں،
‹ Previous page Next page › Contents of August 2014 All issues