زندگی اور موت
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۴، صفحہ ۱۹
زندگی اور موت
گوپی ناتھ منڈے انڈ یا کے مشہور لیڈر تھے۔ انڈ یا کی نئی حکومت میں مرکزی وزیر کی حیثیت سے اُن کا تقرر ہو چکا تھا۔ 4 جون 2014 کو وہ نئی دہلی میں اپنا عہدہ سنبھالنے والے تھے، مگر اُس سے صرف ایک دن پہلے 3 جون کو نئی دہلی میں روڈ ایکسیڈنٹ کے ایک واقعے میں ان کی وفات ہوگئی۔ بوقتِ وفات ان کی عمر 64 سال تھی۔
یہ صرف ایک شخص کا معاملہ نہیں۔ ہر آدمی جو اس دنیا میں پیدا ہوتا ہے، خواہ وہ کتنی ہی بڑی پوزیشن حاصل کرلے، اُس کو بہر حال اس دنیا میں جینے کا محدود وقت ملتا ہے۔ علامتی طور پر اس کو ”64 سال“ کہہ سکتے ہیں۔ مگر عجیب بات ہے کہ کوئی بھی شخص شعوری طور پر اس حقیقت کو نہیں جانتا۔ گوپی ناتھ منڈے کے ساتھ جس دن مذکورہ واقعہ پیش آیا، اس وقت وہ ایک وکٹری ریلی (victory rally) میں شرکت کے لیے جا رہے تھے، لیکن شرکت سے پہلے ان کی زندگی کا آخری لمحہ آگیا۔ یہی معاملہ اس دنیا میں ہر شخص کا ہے۔ ہر آدمی بطورِ خود کسی ”وکٹری ریلی“ میں شرکت کے لیے سفر کر رہا ہے، لیکن اپنی مطلوب منزل پر پہنچنے سے پہلے اس کا آخری وقت آ جاتا ہے۔ وہ اپنی فتح کا جشن منائے بغیر اچانک آخرت کی دنیا میں داخل ہو جاتا ہے، ایسی حالت میں جب کہ اس نے آخرت کی دنیا کے لیے کوئی تیاری نہیں کی تھی۔
اعداد و شمار کے مطابق، ہر دن ساری دنیا میں ایک لاکھ سے زیادہ آدمی مر جاتے ہیں۔ ہر مرنے والا اپنے پیچھے ایک خاموش پیغام چھوڑ جاتا ہے۔ ہر مرنے والا اپنے بعد جینے والوں کو یہ خاموش پیغام دیتا ہے— اے جینے والو، موت کی تیاری کرو۔ اے دنیا کی تعمیر کرنے والو، آخرت کی تعمیر کی کوشش کرو۔ اے بے خبری میں جینے والو، اپنے آپ کو باخبر جینے والا بناؤ۔ اے دنیا میں اپنی حیثیت تلاش کرنے والو، آخرت کی جنت کے لیے اپنے آپ کو مستحق بناؤ۔ یہی زندگی کی اصل حقیقت ہے۔ جو لوگ اس سے باخبر ہوں، وہی علم والے ہیں اور جو لوگ اس سے باخبر نہ ہوں، اُن کا علم سے کوئی تعلق نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2014 All issues