Al-Risala · January 2014 · page

کامیابی کا اصول

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۴

اوپر اٹھ کر سوچ نہیں پاتے ۔ یہ اوپر اٹھ کر سوچنا ہی چیز ہے جس کو قرآن میں خلقِ عظیم (68:4) کہا گیا ہے۔ خلق عظیم کا لفظی مطلب ہے برتر کردار، لیکن برتر کردار برتر آئیڈیا لوجی سے پیدا ہوتا ہے، برتر آئیڈیا لوجی نہیں تو برتر کردار بھی نہیں ۔

مومن کے لیے برتر آئیڈیالوجی صرف ایک ہے اور وہ یہ ہے کہ آدمی دوسری چیزوں کو لے کر سوچنے کے بجائے اللہ رب العالمین کو لے کر سوچے ۔ اس کے اندر خدا رخی سوچ (God-oriented thinking) آجائے- ۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان کے اندر خدا رخی سوچ نہیں ، وہ صرف اپنے معاشی اور سیاسی مسائل کو جانتے ہیں۔ ان کی موجودہ سوچ اسی کی بنیاد پر بنی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلمان اللہ کی نصرت سے محروم ہو گئے ہیں ۔ ان کے پاس صرف شکایت کی زبان ہے، ان کے پاس شکر کی زبان نہیں ۔

موجودہ زمانے میں عالمی سطح پر مسلمانوں کے دو بڑے مسئلے ہیں۔ کشمیر کا مسئلہ اور فلسطین کا مسئلہ ۔ غیر معمولی قربانیوں کے باوجود یہ دونوں مسئلے عملاً لایخل مسئلے بنے ہوئے ہیں۔ ان دونوں مسائل کا حل اگر موجودہ قسم کی کوششوں سے ممکن ہوتا تو اب تک وہ ہو چکا ہوتا۔ لیکن 60 سال سے زیادہ مدت کی غیر معمولی کوششوں کے باوجود یہ دونوں مسئلے کسی بھی درجے میں حل نہیں ہوئے۔ ایسی حالت میں کشمیریوں اور عربوں دونوں کو چاہئے کہ وہ اپنی سوچ کو بدلیں ۔ اس کے سوا ہر دوسری تدبیر صرف نقصان میں اضافہ کرے گی ، وہ کوئی مثبت نتیجہ پیدا کرنے والی نہیں۔

کشمیر کے مسلمان اب تک دو چیزوں کو اپنا نشانہ بنائے ہوئے تھے ؀ آزاد کشمیر یا پاکستانی کشمیر۔ مگر یہ دونوں نشانے قومی سوچ پر بنے ہیں ، نہ کہ خدائی سوچ پر۔ صحیح یہ ہے کہ کشمیر کے مسلمان اپنی سوچ پر نظرثانی کریں اور یہ کہیں کہ ہمارا نشانہ نہ آزاد کشمیر ہے اور نہ پاکستانی کشمیر، ہمارا نشانہ صرف خدائی کشمیر (divine Kashmir) ہے۔ خدائی کشمیر کو اپنا نشانہ بنانے کا مطلب ہے ؀ خدا والی سوچ کے تحت اپنے عمل کا نقشہ بنانا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت مکہ میں ہوئی تو آپ نے وہاں یہ اشو نہیں کھڑا کیا کہ مکہ

‹ Previous page Next page › Contents of January 2014 All issues

Printed page