اصلاح کا طریقہ
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۴، صفحہ ۲۹
اصلاح کا طریقہ
مذکورہ قرآنی آیتوں میں سے دوسری آیت یہ بتاتی ہے کہ جب امت کا یہ حال ہو جائے تو اُس وقت اس کی اصلاح کے لیے کیا کرنا چاہئے ۔ آیت کے مطابق ، اُس وقت ایک مصلح کو وہی کرنا چاہئے جو ایک کسان کسی مردہ زمین کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے اختیار کرتا ہے ، یعنی پہلے زمین کو تیار کرنا اور اس کے بعد اس میں فصل اگانا ۔ اسی طرح امت کے زوال کے بعد ایک مصلح کو یہ کرنا ہے کہ وہ امت کے اندر دوبارہ معرفتِ دین پیدا کرے ، وہ امت کے افراد میں دوبارہ ذہنی بیداری لائے ، امت کے افراد جو پیدائشی دین پر کھڑے ہوئے ہیں ، ان کے لیے دین کو اُن کی از سر نو دریافت (rediscovery) بنادے ، وغیرہ ۔
موجودہ زمانے کے مسلمان مکمل طور پر اس زوال کی حالت پر پہنچ چکے ہیں۔ ان کے اندر بظاہر کچھ دینی شکلیں دکھائی دیتی ہیں، لیکن ان کے افراد روح دین سے خالی ہیں۔ یہی وہ مسلمان ہیں جن کے بارے میں حدیث میں آیا ہے کہ اُن کی مسجدیں بھر ہوئی ہوں گی، لیکن وہ ہدایت کے اعتبار سے خالی ہوں گی (مساجدهم عامرة، وهي خراب من الهدى) جامع الأحاديث للسيوطي، 13182۔ ایک اور حدیث میں بتایا گیا ہے کہ بظاہر مسلمان ایک بڑی بھیڑ کی شکل میں ہوں گے، لیکن ان کے اندر ایک بھی خاشع شخص موجود نہیں ہوگا (حتى لا ترى فيها خاشعا) كنز العمال، 5890۔ ان مسلمانوں کے درمیان اصلاحی کام کا آغاز اُن کو خیر امت فرض کرکے نہیں ہوسکتا۔ ان کے درمیان مؤثر اصلاحی کام صرف اس طرح ہوسکتا ہے کہ پہلے ان کو زوال یافتہ امت تسلیم کیا جائے اور پھر بالکل آغاز سے ان کی اصلاح کی منصوبہ بندی کی جائے، یعنی تجویز سے پہلے تشخیص۔ قرآنی سورتوں کی ترتیب قرآن کی سورتوں کی موجودہ ترتیب کا نہایت گہرا تعلق امت کی اصلاح کے مسئلے سے ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، قرآن کی سورتوں کی موجودہ ترتیب اُن کے نزول کی ترتیب کے مطابق نہیں ہے، بلکہ وہ اس سے مختلف ہے۔ عمومی طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ مکہ میں قرآن کی جو سورتیں نازل ہوئیں، اُن کو ترتیب میں
‹ Previous page Next page › Contents of September 2014 All issues