Al-Risala · October 2014 · page 26

قریش کلچر

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۴، صفحہ ۲۶

قریش کلچر

قرآن کی سورہ قریش میں قریش کی نسبت سے اللہ کی ایک سنت بیان کی گئی ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں: لِاِیْلٰفِ قُرَيْشٍ اِلْفِهِمْ رِحْلَةَ الشِّتَاءِ وَالصَّيْفِ فَلْيَعْبُدُوا رَبَّ هُذَا الْبَيْتِ الَّذِيْ أَطْعَمَهُمْ مِّنْ جُوْعٍ وَآمَنَهُمْ مِّنْ خَوْفٍ 0 (1-106) یعنی اس واسطے کہ قریش مانوس ہوئے، جاڑے اور گرمی کے سفر سے مانوس، تو اُن کو چاہیے کہ وہ اُس گھر کے رب کی عبادت کریں جس نے اُن کو بھوک میں کھانا دیا اور خوف سے اُن کو امن دیا۔

قدیم مکہ میں قبیلۂ قریش کو سرداری کا مقام حاصل تھا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ وہ کعبہ کے متولی تھے۔ کعبہ کی اہمیت یہ تھی کہ اس میں عرب کے تمام قبائل کے بت رکھے ہوئے تھے، اس لیے کعبہ تمام عرب قبائل کا مقدس ترین مرکز بن گیا تھا۔

قدیم زمانے میں معاشیات کا انحصار زراعت پر تھا، لیکن مکہ میں کوئی زراعت نہ تھی۔ قریش کے لوگ کچھ روایتی سامان کی تجارت کرتے تھے۔ اس مقصد کے لیے وہ تجارتی اسفار کرتے تھے۔ اُن کا تجارتی قافلہ سردی کے موسم میں یمن کی طرف جاتا تھا۔ اور گرمی کے موسم میں شام کے علاقے کی طرف۔ قدیم زمانے میں اس قسم کے قافلوں کو ہمیشہ ڈاکوؤں کا خطرہ رہتا تھا۔ لیکن قریش کے قافلے اس قسم کے خطرات سے محفوظ تھے، کیوں کہ کعبہ کے خادم اور متولی ہونے کی بنا پر اُن کو عرب کے قبائل میں عزت کا مقام حاصل تھا۔ ایسے موقع پر کسی قریش کی حفاظت کے لیے یہ کافی تھا کہ وہ رہزنوں سے یہ کہہ دے کہ: أنامن حرم الله - قرآن کی اس سورہ میں جس واقعے کا ذکر ہے، وہ صرف قدیم زمانے کے قریش کا ایک معاملہ نہیں ہے، بلکہ وہ اللہ کی ایک سنت کا معاملہ ہے۔ یہ دراصل اللہ کے عطیات کا ذکر کر کے یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ اپنے بندوں کو ہر زمانے میں مختلف قسم کی سہولتیں عطا فرماتا ہے، تا کہ وہ اللہ کے شکر کرنے والے بنیں اور اللہ کی عبادت کے تقاضوں کو پورا کریں۔ قدیم زمانے میں قریش کو جو اقتصادی نعمت حاصل تھی،

‹ Previous page Next page › Contents of October 2014 All issues

Printed page