کشمیر بیداری
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۴، صفحہ ۴
قرآن کے الفاظ میں حضرت یونس غضبناک (21:87) ہو کر نینویٰ سے باہر چلے گئے۔ اس کے بعد ایسے حالات پیش آئے کہ ایک سمندری مچھلی نے حضرت یونس کو نگل لیا۔ وہ تقریباً چالیس دن تک مچھلی کے پیٹ میں رہے۔ پھر انھوں نے توبہ کی، اللہ نے ان کی توبہ قبول کی، اور ان کو مچھلی کے پیٹ سے باہر نکال دیا (37:145)۔ اس کے بعد حضرت یونس اپنی قوم میں واپس آئے، اور دوبارہ قوم کو اللہ کا پیغام پہنچایا۔ دوسری بار کی کوشش کامیاب ہوئی، اور پوری قوم نے حضرت یونس کے پیغام کو قبول کر لیا۔
حضرت یونس کا مچھلی کے پیٹ میں جانا، بلا شبہہ ایک فطری آفت (natural calamity) تھی، اور کشمیریوں کے ساتھ ستمبر 2014 میں جو کچھ پیش آیا، وہ بھی بلا شبہہ ایک فطری آفت (natural calamity) تھی۔ اس مشابہت سے معلوم ہوتا ہے کہ کشمیریوں کے لیے حضرت یونس علیہ السلام کے واقعے میں سبق ہے۔ کشمیر کے لوگوں کو حضرت یونس کے واقعے پر غور کرنا چاہئے، اور اس کی روشنی میں اپنے لیے عمل کا نیا منصوبہ بنانا چاہئے ۔
کشمیر کے معاملے پر اس حیثیت سے غور کیجئے تو معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یونس کی مثال براہ راست طور پر کشمیریوں کے اوپر چسپاں ہوتی ہے۔ اور جیسا کہ قرآن سے معلوم ہوتا ہے، قرآن میں مذکور ہر پیغمبر کا نمونہ مسلمانوں کے لیے یکساں طور پر قابل اتباع ہے (6:90)۔ حضرت یونس کے معاملے کی حقیقت یہ تھی کہ اہل نینویٰ کے لیے حضرت یونس کی دعوتی کوشش ابھی اللہ کے نزدیک تکمیل کی حد تک نہیں پہنچی تھی، مگر حضرت یونس نے ایسا کیا کہ اللہ کی طرف سے حکم ملنے سے پہلے نینویٰ سے ہجرت کر کے باہر چلے گئے۔ یہی وجہ تھی جس کی بنا پر ان کے ساتھ مذکورہ واقعہ پیش آیا۔
اہل ایمان کی یہ منصبی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام قوموں تک اللہ کا دین پہنچا ئیں ۔ دعوت ایک پر امن جدوجہد ہے، جس کو خیر خواہی کے جذبے کے تحت اہل ایمان کو انجام دینا ہے۔ کشمیر کے مسلمانوں نے اپنی اس ذمہ داری کو ادا نہیں کیا۔ 1947 کے بعد جب کشمیر میں نیا دور آیا تو کشمیر کے
‹ Previous page Next page › Contents of November 2014 All issues