Al-Risala · November 2014 · page 5

کشمیر بیداری

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۴، صفحہ ۵

مسلمانوں نے پر امن دعوتی جدوجہد کے بجائے پرشور سیاسی جدوجہد (political activism) شروع کر دیا۔ کشمیریوں کی یہی وہ غلطی ہے جس کی بنا پر خدا نے ستمبر 2014 کی فطری آفت (natural calamity) ان کے اوپر بھیج دی۔ یہ فطری آفت بلاشبہ کشمیریوں کے لیے ایک خدائی انتباہ (divine warning) تھی۔

حضرت یونس سے دعوت کی ذمہ داری میں جزئی کمی واقع ہوئی تھی، اس کے نتیجے میں وہ سمندری طوفان کا شکار ہو گئے۔ کشمیریوں نے اپنی دعوتی ذمہ داری کے معاملے میں کامل غفلت کا ارتکاب کیا ہے، ایسی حالت میں ان کے لئے خدا کی پکڑ سے بچنا ممکن نہ تھا۔ کشمیر میں دعوت کے بہت زیادہ مواقع ہیں۔ کشمیریوں کی غلطی یہ ہے کہ انھوں نے دعوت کے ان مواقع کو استعمال نہیں کیا ۔ اب وقت آ گیا ہے کہ وہ اجتماعی تو بہ (24:31) کریں۔ کشمیر کے مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اپنی سیاسی سرگرمیوں کو ختم کردیں، اور پر امن دعوت کے کام کے لیے سرگرم ہو جائیں۔ یہی وہ واحد عمل ہے جو خدا کی رحمت کو دوبارہ کشمیر کے مسلمانوں کی طرف واپس لاسکتا ہے۔ کشمیر کے مسلمان اگر ایسا نہ کریں تو کوئی دوسری سرگرمی ہرگز ان کو اللہ کی رحمت کا مستحق بنانے والی نہیں۔

دعوت الی اللہ ایک لازمی فریضہ ہے، دعوت الی اللہ ہر مسلمان کا اصل منصبی مشن ہے۔ دعوت الی اللہ یعنی اللہ کا پیغام تمام لوگوں تک پہنچانا، ایک ایسا کام ہے جس کی ادائیگی ہر حال میں مطلوب ہے۔ مسلمان اگر دعوت الی اللہ کا کام نہ کریں تو وہ اللہ کی پکڑ سے بچنے والے نہیں۔ کشمیری مسلمانوں کے لیے خاص طور پر اس کی اہمیت اور زیادہ ہے۔ کشمیر کی امتیازی خصوصیات کی بنا پر لوگ بڑی تعداد میں اس ریاست میں باہر سے برابر آتے رہتے ہیں۔ یہ آنے والے لوگ بظاہر سیاح یا یاتری، وغیرہ ہوتے ہیں، لیکن اگر انسانی فطرت کے اعتبار سے دیکھئے تو ان میں سے ہر شخص متلاشی (seeker) ہوتا ہے۔ ان میں سے ہر شخص خاموش زبان میں کہہ رہا ہوتا ہے کہ اے کشمیر یو، ہم تمھارے یہاں آئے ہیں تا کہ تم ہم کو وہ سچائی دو جو اللہ کی بھیجی ہوئی ہدایت کی

‹ Previous page Next page › Contents of November 2014 All issues

Printed page