تسخیری عبادت، عارفانہ عبادت
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۴، صفحہ ۷
تسخیری عبادت، عارفانہ عبادت
عبادت الہی پوری کائنات کا دین ہے، انسان کا بھی اور دوسری موجودات کا بھی۔ فرق یہ ہے کہ دوسری موجودات سے تسخیری عبادت مطلوب ہے، یعنی جبری عبادت (compulsory ibadat)، اور انسان سے اختیارانہ عبادت (Ibadat by choice)۔ اسی اختیارانہ عبادت کو قرآن میں، امانت (33:72) کہا گیا ہے۔
مجبورانہ عبادت پر کوئی انعام (reward) نہیں۔ لیکن اختیارانہ عبادت کا معاملہ، اس سے مختلف ہے۔ اختیارانہ عبادت، ایک ذمہ داری کا معاملہ ہے۔ اختیارانہ عبادت کے ساتھ، سزا اور انعام دونوں جڑے ہوئے ہیں۔ اختیارانہ عبادت میں اگر آدمی ناکام ہو جائے، تو اُس کی سخت پکڑ ہوگی۔ اس کے برعکس، اختیارانہ عبادت میں جو کامیاب رہے، اُس کے لیے بڑے بڑے انعامات ہیں۔ انسان کو اس دنیا میں جو اختیار دیا گیا ہے، وہ پوری کائنات کی سب سے بڑی نعمت ہے۔ اختیار خداوند رب العالمین کی صفت ہے۔ انسان کو اس خداوندی صفت کا ایک شمہ عطا کیا گیا ہے۔ یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ ہر عطیہ کے ساتھ، ذمہ داری جڑی ہوئی ہوتی ہے۔ انسان کو جب اختیار کا عظیم عطیہ دیا گیا، تو اُس کے ساتھ ہی یہ لازم ہو گیا کہ یہ دیکھا جائے کہ انسان، اس عظیم نعمت کا درست استعمال کرتا ہے یا غلط استعمال۔ اسی کے ساتھ یہ بھی لازم ہو گیا کہ اختیار یا آزادی کے صحیح استعمال پر انسان کو اعلیٰ انعام دیا جائے، اور اسی کے ساتھ اختیار اور آزادی کے غلط استعمال پر اُس کو اُس کے مطابق سزا دی جائے۔
کائنات کی تمام چیزیں، اللہ کی تسخیری عبادت کر رہی ہیں۔ انسان کی یہ صفت ہے کہ وہ اللہ کی عارفانہ عبادت کرتا ہے۔ وہ اپنے عقل کو استعمال کر کے، اللہ کو دریافت کرتا ہے۔ وہ اپنے اوپر اللہ کی نعمتوں کا ادراک کرتا ہے۔ اس احساس کے ساتھ جب وہ اپنے آپ کو اللہ کے آگے جھکا دیتا ہے، تو اسی کا نام عارفانہ عبادت ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2014 All issues