Al-Risala · November 2014 · page 21

دور جدید کا مسئلہ

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۴، صفحہ ۲۱

بہت بڑی بڑی چیزیں عطا کیں، جو اس سے پہلے کبھی انسان کو حاصل نہ تھیں۔ مثلاً فطرت میں چھپے ہوئے قوانین (natural laws) کو دریافت کرنا، سیاسی زندگی میں بادشاہت کے بجائے جمہوریت کو رواج دینا، انسانی زندگی سے مذہبی جبر کو ختم کرنا، علمی مطالعے کے لیے سائنسی طریقہ (scientific method) کو رواج دینا، عالمی مسائل کے لیے اقوام متحدہ کی صورت میں ایک انٹرنیشنل فورم کا قیام، ایسے نئے علوم کا رواج جو اسلام کے لیے بے حد مفید تھے۔ مثلاً حَفریات (excavation)، وغیرہ۔

لیکن مغربی تہذیب جب دنیا میں آئی تو وہ اس طرح نہیں آئی کہ انسانی آزادی حذَف ہوگئی۔ اس کے ساتھ فطری طور پر مطلوب اجزا کے ساتھ ایسے غیر مطلوب اجزا بھی شامل تھے، جو اصلاً خود تہذیب کا حصہ نہ تھے، مگر انسانی آزادی کی بنا پر بظاہر وہ اس کا حصہ بن گئے۔ مثلاً سیاسی غلبہ حاصل کرنے کے لیے لڑائیاں، انسان کے مادہ پرستانہ مزاج کی بنا پر پیدا ہونے والے مفاسد، استغلال (exploitation)، شخصی اور قومی مفاد (interest) سے پیدا ہونے والی برائیاں، وغیرہ۔ مغربی تہذیب کے اندازہ (evaluation) کے لیے ضروری ہے کہ اس پہلو کو ملحوظ رکھتے ہوئے مغربی تہذیب کا مطالعہ کیا جائے، ورنہ مطالعہ کرنے والا منصفانہ مطالعہ کرنے سے قاصر رہے گا۔ مغربی تہذیب کے ظہور کے بعد جو حالات پیدا ہوئے، اُن کو اگر خالص معیار (ideal) کی روشنی میں دیکھا جائے تو اس کے کچھ اجزا یقیناً مطلوب اجزا نظر آئیں گے اور کچھ اجزا غیر مطلوب۔ مگر ان تمام اجزا کو ایک فہرست میں شامل کر کے اگر یہ کہا جائے کہ یہ مغرب کا ایجنڈا ہے تو یہ ایک غیر فطری تجزیہ ہوگا۔ اگر ایجنڈے کے نظریے کو اصولی طور پر درست مان لیا جائے تو عین یہی تبصرہ اسلام کی تاریخ پر صادق آجائے گا۔ ایک مبصر یہ کہہ سکتا ہے کہ اسلام اگر چہ توحید کا علم بردار تھا، لیکن اس کے ایجنڈے میں یہ بھی شامل تھا کہ خلافت کے نام پر خاندانی حکمرانی قائم کی جائے، اسلام کی مختلف تعبیرات کر کے لوگ آپس میں لڑائیاں کریں، دار الاسلام اور در الکفر کا نظریہ وضع کر کے غیر مسلم اقوام کے خلاف نفرت کلچر پیدا کیا جائے، وغیرہ۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2014 All issues

Printed page