دور جدید کا مسئلہ
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۴، صفحہ ۲۲
ایک عالم کا مشہور قول ہے: خذ ماصفا ودع ماکدر ۔ اس قول میں روایتی الفاظ میں وہی بات کہی گئی ہے جس کا ہم نے اوپر ذکر کیا، یعنی انسانی زندگی یا انسانی انقلاب میں ہمیشہ ایسا ہوگا کہ اس کے کچھ اجزا مطلوب اجزا ہوں گے اور کچھ اجزا غیر مطلوب اجزا ۔ مطلوب اجزا وہ ہوں گے جو معیار سے مطابقت رکھتے ہوں ، اور غیر مطلوب اجزا وہ ہوں گے جو انسانی آزادی کی بنا پر اس میں شامل ہو جائیں۔
اصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں انسان کو آزادانہ اختیار(free choice) کا حق دیا ہے۔ انسان کا یہ حق قیامت تک منسوخ ہونے والا نہیں۔ اس آزادی کو قرآن میں امانت (33:72) کہا گیا ہے۔ انسان کو اختیار ہے کہ وہ اس خدا داد آزادی کو اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرے، خواہ دوسروں کی نظر میں وہ صحیح ہو یا غلط۔ انسانی زندگی کے تمام واقعات میں انسانی آزادی کے یہ اجزا ہمیشہ شامل رہتے ہیں، حتی کہ اسلام کے ظہور کے بعد امت مسلمہ کی تاریخ میں بھی۔ تاریخ انسانی کے مطالعے کے معاملے میں اس نکتے کی بے حد اہمیت ہے۔ جو لوگ اس نکتے کو ملحوظ رکھتے ہوئے انسانی تاریخ کا تجزیہ کریں، وہ صحیح نتائج تک پہنچیں گے، اور جو لوگ اس نکتے کو ملحوظ رکھے بغیر انسانی تاریخ کا تجزیہ کریں، وہ کبھی انسانی تاریخ کے معاملے میں صحیح نتائج تک نہیں پہنچ سکتے۔ نیا ہندی ترجمہ قرآن ہندی زبان میں صدر اسلامی مرکز کے دو ترجمے شائع ہو چکے ہیں۔ ایک، قرآن کا آسان ہندی ترجمہ۔
دوسرا، قرآن کا خالص ہندی ترجمہ۔ یہ نیا ترجمہ قرآن خاص طور پر برادرانِ وطن کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ آپ سے درخواست ہے کہ اس ترجمہ قرآن کو زیادہ سے زیادہ برادرانِ وطن تک پہنچا کر اپنا دعوتی فریضہ انجام دیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2014 All issues