صحبتِ رسول
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۴، صفحہ ۲۳
صحبتِ رسول
ایک عالم نے کہا ہے: من كان في بيته مجموعة من الأحاديث، فكأنما فيه نبي يتكلم (جس آدمی کے گھر میں حدیث رسول کا ایک مجموعہ موجود ہو تو گویا کہ اُس گھر میں کلام کرتا ہوا ایک پیغمبر موجود ہے)۔
اِس کا مطلب یہ ہے کہ جب ایک شخص سچے جذبے کے ساتھ حدیث کی کتاب کو کھولے گا، اور اِس میں موجود اقوالِ رسول کو پڑھے گا تو اِس کو محسوس ہوگا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُس سے ہم کلام ہو کر اُس کو براہ راست نصیحت کر رہے ہیں۔
یہی معاملہ صحبت رسول کا بھی ہے۔ اگر آدمی کے اندر سچی اسپرٹ زندہ ہو، اور اُس کے اندر صحیح معنوں میں اتباعِ رسول کا جذبہ موجود ہو تو آج بھی وہ صحبت رسول کا تجربہ کر سکتا ہے۔ مثلاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ یہ تھا کہ آپ اپنے دشمن سے نفرت نہیں کرتے تھے، بلکہ آپ اُس کے ساتھ اعلیٰ انسانی سلوک کرتے تھے، اور اُس کی ہدایت کے لیے خدا سے دعا کرتے تھے۔ اب اگر آپ کا کوئی دشمن ہو، مگر آپ اُس کے ساتھ جوابی دشمنی نہ کریں، بلکہ یہ سوچیں کہ رسول اللہ نے اپنے دشمن کے ساتھ جو سلوک کیا تھا، وہی سلوک مجھ کو بھی اپنے دشمن کے ساتھ کرنا چاہیے۔ اِس طرح سوچ کر جب آپ اپنے دشمن کے ساتھ پیغمبر والا برتاؤ کریں تو اُس وقت آپ کو رسول اللہ کے ساتھ ایک خاص نسبت حاصل ہو جائے گی۔ آپ اپنی سوچ اور جذبات کے اعتبار سے، رسول اللہ کے ساتھ خصوصی مناسبت محسوس کرنے لگیں گے۔ یہاں تک کہ یہ جذبہ اتنا ترقی کرے گا کہ آپ کو محسوس ہوگا کہ زمانی دوری ختم ہو گئی ہے اور آپ گو یا کہ رسول اللہ کی صحبت میں پہنچ گئے ہیں۔ یہ بلا شبہ ایک فطری حقیقت ہے، اور کوئی بھی شخص کسی بھی مقام پر اس کا تجربہ کر سکتا ہے۔ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے مخالفین کی طرف سے نہایت نازیبا سلوک کیا گیا۔ مثلاً آپ کو مجنوں کہا گیا۔ آپ کو مذمم کہا گیا ۔ آپ کو ساحر اور کذاب کہا گیا،
‹ Previous page Next page › Contents of November 2014 All issues