صحبتِ رسول
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۴، صفحہ ۲۴
وغیرہ، لیکن آپ نے کبھی ایسے لوگوں کو منفی جواب نہیں دیا۔ آپ نے اس کے خلاف نہ شکایت کی، نہ احتجاج، بلکہ آپ ایسے لوگوں کے لیے خدا سے دعا کرتے رہے۔ اب اگر کسی کو اس قسم کا منفی تجربہ ہو، مگر وہ دل کی پوری آمادگی کے ساتھ رسول اللہ کے طریقے کو اختیار کرلے تو ایسے موقع پر اُس کے اندر مخصوص جذبات ابھریں گے۔ وہ اپنے اندر رسول اللہ کے ساتھ ایک خاص تعلق محسوس کرے گا۔ وہ صحبتِ رسول کا تجربہ کرنے لگے گا۔
صحبت رسول کی دو قسمیں ہیں۔ ایک، جسمانی صحبت (physical companionship)
اور دوسری ہے روحانی یا نفسیاتی صحبت (psychological companionship)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم عصر اہلِ ایمان کو آپ کے ساتھ جسمانی صحبت حاصل ہوئی، لیکن بعد کے زمانے کے اہل ایمان کو بھی آپ کی روحانی یا نفسیاتی صحبت حاصل ہوسکتی ہے، بشرطیکہ وہ اُس کی شرط کو پورا کریں، اور وہ ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گہری مزاجی مناسبت۔
صحبت صرف ساتھ بیٹھنے کا نام نہیں ہے، بلکہ اس کا مدار تمام تر مزاجی مناسبت پر ہے۔ دور اول میں بھی اس کی واضح مثالیں ملتی ہیں۔ اُس وقت اسلام قبول کرنے والوں میں جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مزاجی مناسبت رکھتے تھے، ان کو آپ کی صحبت کا فائدہ ملا۔ اور جو لوگ آپ سے مزاجی مناسبت نہیں رکھتے تھے، وہ بظاہر آپ سے قریب ہونے کے باوجود صحبت کے فائدے سے محروم رہے۔ سچے صحابہ اور منافقین کے درمیان جو فرق ہے، وہ اسی بنا پر ہے۔ سچے صحابہ کے اندر رسول اللہ سے مزاجی مناسبت تھی، اس لیے ان کو صحبتِ رسول کا پورا فائدہ ملا، اور منافقین کے اندر یہ مزاجی مناسبت موجود نہ تھی، اس لیے وہ رسول اللہ سے قریب رہتے ہوئے بھی صحبت رسول کے حقیقی فائدے سے محروم رہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2014 All issues