فقدانِ شخصیت، فقدانِ معرفت
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۴، صفحہ ۲۵
فقدانِ شخصیت، فقدانِ معرفت
قوموں کا عام مزاج یہ ہے کہ وہ اپنی ماضی کی شخصیتوں کی مبالغہ آمیز تصویر بناتے ہیں، یہاں تک کہ ان کی شخصیتیں افسانوی شخصیت (legendary figure) کی حیثیت اختیار کرلیتی ہیں۔ یہی معاملہ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے ساتھ بڑے پیمانے پر ہوا ہے۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں نے اپنی ماضی کی شخصیتوں کی مبالغہ آمیز تصویر بنا رکھی ہے۔ اس کے نتیجے میں دو بڑا نقصان مسلمانوں کے حصے میں آیا ہے— ماضی کا ضرورت سے زیادہ اندازہ (overestimation) اور حال کا ضرورت سے کم اندازہ (underestimation)۔
موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والے عام طور پر ایسا کرتے ہیں کہ وہ اپنی ماضی کی شخصیتوں کو یاد کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مسلمانوں کے موجودہ حالات کو بدلنے کی ایک ہی شکل ہے، وہ یہ کہ مسلمانوں کے اندر قدیم شخصیتیں دوبارہ پیدا ہوں، مگر اس قسم کی باتیں خوش فہمی کے سوا اور کچھ نہیں۔
مثلاً مشہور عرب مورخ خیر الدین الزرکلی (وفات: 1976) نے ماضی کی مشہور مسلم شخصیتوں پر کئی جلدوں میں ایک کتاب تیار کی ہے، اس کا نام ہے: الأعلام۔ وہ مسلمانوں کے احیاء نو کا راز اس میں سمجھتے تھے کہ ماضی جیسی مسلم شخصیتیں دوبارہ پیدا ہوں۔ چنانچہ انھوں نے اپنے ایک شعر میں کہا تھا کہ — صلاح الدین ایوبی کو ہمارے درمیان دوبارہ لے آؤ، حطین یا حطین جیسے معرکے دوبارہ گرم کرو: هات صلاح الدین ثانية فينا جدّدی حطين أو شبه حطينا خیر الدین الزرکلی کا یہ شعر صرف صاحب کلام کی زمانے سے کامل بے خبری کی ایک مثال ہے۔ آج کا زمانہ اور آج کے حالات ہر اعتبار سے بدل چکے ہیں۔ موجودہ زمانے میں کوئی کام کرنے کے لیے پہلی شرط بصیرت زمانہ ہے، نہ کہ صلاح الدین کا دوبارہ پیدا ہونا۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں صلاح الدین ایوبی جیسی شخصیت کے لوگ پیدا ہوئے، مگر عملاً وہ کوئی نتیجہ خیز کام نہ کر سکے، کیوں کہ
‹ Previous page Next page › Contents of November 2014 All issues