Al-Risala · December 2014 · page 3

دور معرفت

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۴، صفحہ ۳

دور معرفت

حضرت ابوذر غفاری کہتے ہیں کہ کوئی چڑیا بھی اگر فضا میں اپنے پروں کو پھڑ پھڑاتی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے ہم کو ایک علم کی یاد دلاتے تھے(وما يقلب طائر جناحیہ في السماء إلا ذكر لنا منه علماً) الطبقات الكبرى لابن سعد 2/354۔

بلا شبہ چڑیا کا فضا میں اڑنا قدرت الہی کی ایک عظیم نشانی ہے۔ قدیم زمانہ میں قدرت الہی کی اس نشانی(sign) کو صرف پراسرار عقیدہ کے تحت سمجھا جا سکتا تھا، مگر آج اس کو ایک سائنسی حقیقت کے طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔ اب سائنسی دور میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ آج جب ایک ہوائی جہاز فضا میں اڑ کر ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچتا ہے تو اس کے لئے ہوائی جہاز سے باہر ایک بہت بڑا انفراسٹرکچر درکار ہوتا ہے۔ ٹیک آف(takeoff) کے مقام پر بھی اور لینڈنگ(landing) کے مقام پر بھی۔ اس انفراسٹرکچر کے بغیر کوئی جہاز ایک مقام سے دوسرے مقام پر نہیں پہنچ سکتا۔ مگر چڑیا کو فضا میں اڑنے کے لئے کسی خارجی انفراسٹرکچر کی ضرورت نہیں۔ وہ اپنے آپ ایک جگہ سے اڑتی ہے اور فضا میں تیرتی ہوئی دوسری جگہ اتر جاتی ہے۔ یہ بلاشبہ رب العالمین کی ایک عظیم نشانی ہے۔ موجودہ زمانہ میں سائنسی ترقیوں نے ایک بہت بڑا کام انجام دیا ہے۔ اس نے چیزوں کی حقیقت کو سمجھنے کے لئے ایک نیا فریم ورک دیا ہے۔ اس سائنسی فریم ورک کی بنا پر یہ ممکن ہو گیا ہے کہ جو چیز پہلے صرف پراسرار طور پر مانی جاتی تھی، اس کو اب مسلمہ عقلی بنیاد(rationally accepted base) پر سمجھا جا سکتا ہے۔ اس زمانی تبدیلی نے معرفت اور یقین کے لئے ایک نیا لامتناہی میدان کھول دیا ہے۔ اس جدید سائنسی دور کی پیشین گوئی قرآن میں ساتویں صدی عیسوی میں ان الفاظ میں کی گئی تھی: سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ (فصلت: 53) یعنی آئندہ ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے، آفاق میں بھی اور ان کے اپنے اندر بھی، یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہو جائے کہ یہ حق ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2014 All issues

Printed page