Al-Risala · December 2014 · page 4

پیغمبر کا رول

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۴، صفحہ ۴

پیغمبر کا رول

ایک حدیثِ رسول ان الفاظ میں آئی ہے- عن أبي هريرة ، قال جلس جبريل إلى النبي صلی اللہ علیہ وسلم ، فنظر إلى السماء ، فإذا ملك ينزل ، فقال جبريل : إن هذا الملك ما نزل منذ يوم خلق ، قبل الساعة ، فلما نزل قال : يا محمد ، أرسلني إليك ربك : أفلمكا نبيبيا جعلك ، أو عبدا رسولا ؟ قال جبريل : تواضع لربك يا محمد - قال : بل عبداً رسولاً - (مسند احمد : 7160) یعنی ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ جبریلِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ پھر انھوں نے آسمان کی طرف دیکھا۔ تو ایک فرشتہ اوپر سے اترا۔ جبریل نے کہا کہ یہ فرشتہ جب سے اس کو پیدا کیا گیا ، وہ اس سے پہلے کبھی زمین پر نہیں اترا۔ جب وہ فرشتہ آگیا تو فرشتے نے کہا کہ اے محمد ، آپ کے رب نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے۔ آپ کو وہ بادشاہ پیغمبر بنائے یا بندہ پیغمبر ۔ جبریل نے کہا کہ اے محمد اپنے رب کے لئے تواضع کا طریقہ اختیار کیجئے۔ آپ نے کہا کہ میں عبدِ پیغمبر بننا پسند کرتا ہوں۔ اس حدیث کا تعلق صرف پیغمبر کی ذات سے نہیں ہے۔ بلکہ اپنے عمومی انطباق کے اعتبار سے یہ حدیث ، ابدی طور پر داعئ دین کے رول کو بتاتی ہے۔ اور وہ یہ کہ اس دنیا میں داعی کا رول ایک پولیٹیکل رول نہیں ہے، بلکہ وہ ایک غیر سیاسی (non-political) رول ہے۔

اسلام ایک پرامن مذہب ہے، اور اسلامی دعوت ایک پرامن دعوت۔ اسلامی مشن کوئی پولیٹیکل مشن نہیں۔ اسلامی مشن کا مقصد یہ ہے کہ پرامن ذرائع کو استعمال کر کے انسان کو بتایا جائے کہ اس کی زندگی کا مقصد کیا ہے۔ وہ کس طرح ابدی کامیابی کو حاصل کر سکتا ہے۔ مزید یہ کہ دنیا کی زندگی میں، وہ کون سا طریقۂ حیات اختیار کرے، جو اس کے لیے مقصدِ زندگی کے حصول میں رکاوٹ نہ بنے۔ اسلامی دعوت اس لئے ہوتی ہے کہ وہ انسان کے لئے آسانی پیدا کرے۔ وہ انسان کو غیر ضروری مشکل سے بچائے۔ مذکورہ حدیث میں مومنانہ زندگی یا داعیانہ زندگی کی اسی حقیقت کو بتایا گیا ہے۔ اس حدیث کا تعلق سنتِ رسول سے ہے، نہ کہ فضیلتِ رسول سے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2014 All issues

Printed page