Al-Risala · December 2014 · page 5

انسان کی تخلیق کس لیے

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۴، صفحہ ۵

انسان کی تخلیق کس لیے

قرآن کی سورہ الذاریات میں انسان کے مقصد تخلیق کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ مَّا أُرِيدُ مِنْهُمْ مِّنْ رِزْقٍ وَمَا أُرِيدُ أَنْ يُطْعِمُونِ إِنَّ اللَّهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ فَإِنَّ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا ذَنُوبًا مِثْلَ ذَنُوبِ أَصْحَابِهِمْ فَلَا يَسْتَعْجِلُونِ فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ يَوْمِهِمُ الَّذِي يُوعَدُونَ (51:56-60) یعنی اور میں نے جن اور انسان کو صرف اسی لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں۔ میں ان سے رزق نہیں چاہتا اور نہ میں یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھ کو کھلائیں۔ بے شک اللہ ہی روزی دینے والا، زور آور، زبردست ہے۔ پس جن لوگوں نے ظلم کیا، ان کا ڈول بھر چکا ہے، جیسے ان کے ساتھیوں کے ڈول بھرے تھے، پس وہ جلدی نہ کریں۔ پس منکروں کے لیے خرابی ہے ان کے اس دن سے جس کا ان سے وعدہ کیا جا رہا ہے۔

حضرت عبد اللہ بن عباس کے شاگرد مجاہد نے لیعبدون‘ کی تفسیر لیعرفونی‘ (تفسیر القرطبی) سے کی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کی اس آیت میں عبادت سے مراد شکل عبادت نہیں ہے، بلکہ روح عبادت ہے۔ یہاں عبادت سے مراد فارم نہیں ہے، بلکہ عبادت کی اسپرٹ ہے، اور بلا شبہہ عبادت کی اسپرٹ وہی ہے جس کو معرفت (realization) کہا جاتا ہے۔ اب یہ سوال ہے کہ معرفت سے مراد کس چیز کی معرفت ہے۔ ایک لفظ میں، اس سے مراد ہے اپنے اور اپنے خالق کے درمیان پائی جانے والی حیثیت واقعی کو دریافت کرنا۔ اس حیثیت واقعی کے دو پہلو ہیں— ایک ہے بندے کی نسبت سے اور دوسرا ہے خالق کی نسبت سے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ اس بات کو درجہ معرفت میں جاننا کہ انسان عاجز مطلق (all powerless) ہے اور خدا قادر مطلق (all powerful) - خدا پورے معنوں میں دینے والا (giver) ہے اور انسان پورے معنوں میں لینے والا (taker)۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2014 All issues

Printed page