کلام میں وضوح
الرسالہ، فروری ۲۰۱۴، صفحہ ۷
اپنے اندر خود اپنی کوشش سے اتنی زیادہ تجزیاتی طاقت پیدا کرے کہ وہ خود اپنے ذہن میں چیزوں کو سارٹ آؤٹ(sortout) کر سکے۔ اس معاملے میں اس کا ذہن اتنا زیادہ بیدار ہو کہ وہ چیزوں کے فرق کو فوراً محسوس کر لے، وہ مختلف قسم کے تصورات کو اُسی طرح ایک دوسرے سے ممیز کر سکے جس طرح ایک جوہری پتھر کے مختلف ٹکڑوں کو بظاہر ہم شکل ہونے کے باوجود ایک دوسرے سے ممیز کر لیتا ہے۔ اس مقصد کے لیے آدمی کو اپنے اندر کامل معنوں میں وہ صلاحیت پیدا کرنی ہوتی ہے جس کو موضوعی طرز فکر (objective thinking) کہا جاتا ہے۔ یہ صفت صرف اُس شخص کے اندر ہوتی ہے جو اپنے آپ کو ہر قسم کی جانب داری سے خالی کرلے، جو اپنے آپ کو ہر قسم کے تعصبات (prejudices) سے پاک کرلے، جو اپنے آپ کو ہر قسم کے ڈسٹریکشن (distraction) سے بچائے، جس کا کیس پورے معنوں میں ڈی کنڈیشنڈ (de-conditioned) انسان کا کیس بن چکا ہو، جو اپنے آپ کو ہر قسم کی مصلحتوں سے اوپر اٹھا سکے، جو اپنے اندر آخری حد تک حقیقت پسندی کا مزاج پیدا کرلے۔ شعوری ارتقا کی بنا پر جس کا حال یہ ہو کہ اس کے لیے ساری اہمیت صرف اِس چیز کی ہو جائے جو امر واقعہ کے طور پر درست ہو، جس کے نزدیک ساری اہمیت صرف سچائی کی ہو، نہ کہ کسی اور چیز کی۔
یہ صفت سیکولر لوگوں میں بھی ہوسکتی ہے، لیکن کامل معنوں میں نہیں۔ اس صفت کا کامل ظہور صرف اُس شخص کے اندر ہو سکتا ہے جو ایک متقی انسان ہو۔ اللہ کے خوف نے جس کو آخری حد تک کٹ ٹو سائز (cut to size) انسان بنا دیا ہو۔ اِس بنا پر اِتقم الحروف کا احساس یہ ہے کہ کلام میں وضوح پیدا کرنے کے لیے صرف علم کافی نہیں، اُس کے لیے تقوی کی صفت لازمی طور پر ضروری ہے۔ تقوی کے بغیر صرف علم کی بنیاد پر کسی شخص کے کلام میں جزئی طور پر وضوح کی صفت پیدا ہو سکتی ہے، کامل طور پر نہیں۔ علم اور تقویٰ، دونوں صفتیں جب ایک شخص کے اندر جمع ہوں تو اس کے بعد وہ چیز وجود میں آتی ہے جس کو کلام میں وضوح (clarity) کہا جاتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2014 All issues