Al-Risala · December 2014 · page 7

ایک حدیثِ رسول

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۴، صفحہ ۷

ایک حدیثِ رسول

مسند امام احمد میں مرویات عبد اللہ بن عمر کے باب کے تحت، ایک روایت ہے: قال جاء رجل إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم - فقال: يا رسول الله، إني اقرأ القرآن فلا أجد قلبي يعقل عليه؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن قلبك حُشِیَ الإيمان، وإن الإيمان يُعْطى العبدَ قبل القرآن (مسند احمد: (6604) یعنی وہ کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ اس نے کہا کہ اے خدا کے رسول، میں قرآن کو پڑھتا ہوں۔ مگر قرآن میری سمجھ میں نہیں آتا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمھارا دل ایک ایمان سے بھرا ہوا ہے۔ اور ایمان کسی بندے کو قرآن سے پہلے دیا جاتا ہے۔

اس حدیث میں ایمان کا لفظ دو بار آیا ہے مگر دونوں جگہ وہ الگ الگ معنی میں ہے۔ پہلے ایمان سے مراد اس آدمی کے جاہلی افکار ہیں۔ جو بظاہر قبول اسلام کے باوجود ابھی تک اس کے دماغ میں بھرے ہوئے تھے۔ دوسرے ایمان سے مراد وہ حقیقی ایمان ہے جو قبول اسلام کے بعد کسی انسان کو اللہ کی توفیق سے ملتا ہے۔ یہی دوسرا ایمان وہ ہے جو کسی آدمی کے لئے قرآن کو سمجھنے میں معاون بنتا ہے۔ اس حدیث کا مطلب اگر لفظ بدل کر بیان کیا جائے تو وہ یہ ہوگا کہ مذکورہ شخص نے اگرچہ بظاہر اسلام قبول کر لیا تھا لیکن اس کی سابقہ کنڈیشننگ ابھی تک ٹوٹی نہیں تھی۔ جس بنا پر اس کا ذہن قرآن کو سمجھ نہیں پاتا تھا۔ آپ نے فرمایا کہ پہلے تم اپنے ذہن کی ڈی کنڈیشننگ (deconditioning) کرو۔ اس طرح تم ایک تیار ذہن (prepared mind) بن جاؤ گے، اور پھر قرآن کو سمجھنا تمھارے لئے آسان ہو جائے گا۔ کسی موضوع (subject) کو درست طور پر سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی نے اس کے مطابق اپنے ذہن کو تیار کیا ہو۔ جو آدمی مطالعہ سے پہلے تیار ذہن (prepared mind) کی حیثیت نہ رکھتا ہو، وہ کوئی بھی کتاب درست طور پر سمجھ نہیں سکتا، نہ مذہبی کتاب اور نہ غیر مذہبی کتاب۔ یہی معاملہ قرآن کا بھی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2014 All issues

Printed page