اصحابِ رسول کا نمونہ
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۴، صفحہ ۸
اصحابِ رسول کا نمونہ
المعجم الاوسط للطبرانی (باب المیم: 5124) میں صحابہ کے بارے میں ایک روایت آئی ہے۔ اس کو مفسر ابن کثیر نے اپنی تفسیر کی کتاب میں سورہ العصر کے تحت نقل کیا ہے۔ اس روایت کے راوی ایک صحابی عبداللہ بن حصن ہیں۔ وہ کہتے ہیں: کان الرجلان من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم، اذا التقيا لم يتفرقا حتى يقرأ أحدهما على الآخر: "والعصر إن الإنسان لفي خسر"، ثم يسلم أحدهما على الآخر۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے دو آدمی اگر باہم ملتے تو وہ جدا نہیں ہوتے تھے، یہاں تک کہ ایک شخص دوسرے شخص کو سورہ العصر پڑھ کر سناتا، پھر دونوں ایک دوسرے کو سلام کر کے رخصت ہوتے۔
یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کا طریقہ تھا۔ اس کا تقابل (comparison) موجودہ زمانے کے مسلمانوں سے کیجئے ۔ موجودہ زمانے کے مسلمان جب باہم ملتے ہیں تو خواہ وہ دو ہوں یا دو سے زیادہ ہوں، وہ عام طور پر مفروضہ دشمنوں کے ظلم کا چرچا کرتے ہیں۔ مثلاً فلسطین میں عربوں کے اوپر اسرائیل کا ظلم، ہندوستان میں مسلم دشمن پارٹی کا اقتدار میں آنا، 11 ستمبر 2001 کے بعد امریکا میں مسلمانوں کے ساتھ امتيازی سلوک، مغربی ملکوں میں اسلام فوبيا (Islamophobia) کے مبالغہ آمیز قصے، غیر مسلم اخباروں میں مسلمانوں کے خلاف چھپنے والی خبریں، غیر مسلم قوموں کی مسلمانوں کے خلاف سازشیں، حکومت کے اداروں میں مسلمانوں کے خلاف تعصب، وغیرہ۔
وہ واقعات جن کو موجودہ زمانے کے مسلمان ’’ظلم و تعصب‘‘ کہتے ہیں، وہ سب کے سب مزید اضافہ کے ساتھ اصحابِ رسول کے زمانے میں موجود تھے، لیکن اصحابِ رسول ان کا چرچا نہیں کرتے تھے۔ وہ ہمیشہ ان باتوں کا چرچا کرتے تھے جن کو قرآن میں قابل ذکر بتایا گیا ہے۔ اصحابِ رسول اور موجودہ زمانے مسلمانوں کے درمیان یہ جو فرق ہے اُس سے معلوم
‹ Previous page Next page › Contents of December 2014 All issues