Al-Risala · December 2014 · page 14

دعوت کی توسیع

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۴، صفحہ ۱۴

اس بنا پر اس کام کو اللہ نے اپنی مدد کرنا بتایا ہے۔

دعوت الی اللہ کے کام کو اللہ کی مدد کرنا بتایا گیا ہے، اس پہلو سے غور کیجئے تو یہ کہنا درست ہوگا کہ قرآن کی اس آیت کے ذریعہ اللہ یہ اعلان کر رہا ہے کہ اے بندے، تو دعوت کی پلاننگ کر، مددگار اسباب میری طرف سے تمھارے اوپر انڈیل دئے جائیں گے۔ محبوب بھائی سے میں نے کہا کہ ممبئی کو انڈیا کی کمر شیل راجدھانی کہا جاتا ہے۔ شاید اللہ نے یہ مقدر کر دیا ہو کہ ممبئی دعوت الی اللہ کے کام کی دعوتی راجدھانی بنے۔ موجودہ کمیونی کیشن کے زمانے میں یہ بات پوری طرح ممکن ہے۔ اس کے ممکن ہونے میں کسی شک کی گنجائش نہیں۔

الرساله کا دعوتی مشن پورے معنوں میں ایک مشن ہے، لیکن اس کی کوئی فارمل تنظیم (formal organisation) نہیں ۔ اس مشن سے وابستہ لوگ پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں، اور ہر ایک ذاتی جذبہ (self spirit) کے تحت کام کر رہا ہے۔ ہر ایک اس طرح کی سرگرمی کے ساتھ کام کر رہا ہے، گویا کہ یہ اس کا ذاتی کام ہے۔

ابتدائی زمانے کا واقعہ ہے، میں ایک عرب ملک میں تھا، وہاں ایک عرب شیخ نے پوچھا کہ آپ کا برنامج (پروگرام) کیا ہے۔ میں نے کہا: برنامجنا هو إعداد المبرمجين (ہمارا پروگرام، پروگرام ساز انسان بنانا ہے)۔

اللہ کے فضل سے آج یہ بات واقعہ بن چکی ہے۔ الرسالہ مشن کے افراد مختلف ملکوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ معروف معنوں میں ان کا کوئی تنظیمی ڈھانچہ نہیں ۔ وہ رسمی طور پر کسی مرکزی ہدایت سے بندھے ہوئے نہیں۔ اس کے باوجود ہر ایک سرگرم ہے۔

اس کا سبب یہ ہے کہ الرسالہ مشن کوئی سیاسی مشن نہیں۔ الرسالہ مشن لوگوں کو جنت کی طرف بلانے کا مشن ہے۔ الرسالہ مشن قرآن کی اس آیت کی یاد دہانی ہے کہ لمثل هذا فليعمل العاملون (الصافات: 61)۔ اس جنتی نشانہ نے الرسالہ مشن کو ہر ایک کے لئے اس کے ذاتی انٹرسٹ کی چیز بنا دیا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2014 All issues

Printed page